← فتاویٰ پر واپس
Zakat al-Fitr جولائی 13, 2026

صدقۃ الفطر: نقدی رقم یا غلّہ؟

سوال

کیا میں صدقۃ الفطر کی قیمت نقد رقم کی صورت میں ادا کر سکتا ہوں، یا اسے غلّہ (اناج) ہی کی شکل میں دینا ضروری ہے؟

حکم (فتویٰ)

مختصر جواب: صحیح سنت کا تقاضا یہ ہے کہ صدقۃ الفطر کھانے (بنیادی غذاؤں جیسے کھجور، جَو، کشمش، پنیر یا مقامی بنیادی غلّہ) کی صورت میں ادا کیا جائے، نقد رقم کی صورت میں نہیں۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ ہمیشہ ایک صاع کھانا ادا کرتے تھے، اور کوئی صحیح حدیث نقد ادائیگی کی اجازت نہیں دیتی۔ تفصیل: صحیح بخاری 1510 اور صحیح مسلم 985b کی دلیل واضح ہے – نبی کریم ﷺ کے زمانے میں صدقۃ الفطر ایک صاع کھانے کی صورت میں ادا کیا جاتا تھا۔ حکمت یہ ہے کہ عید کے دن غریب کی ضرورت پوری ہو۔ اگرچہ بعد کے بعض علماء نے سہولت کی خاطر نقد رقم کی اجازت دی، لیکن سب سے مضبوط موقف نصوصِ سنت کی پیروی ہے۔ دلائل: 1. صحیح بخاری 1510: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: «رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم صدقۃ الفطر کے طور پر ایک صاع کھانا (غریبوں کو) دیا کرتے تھے۔ ہماری غذا جَو، کشمش، پنیر اور کھجور ہوا کرتی تھی۔» 2. صحیح مسلم 985b: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: «ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہر چھوٹے بڑے، آزاد و غلام کی طرف سے صدقۃ الفطر کے طور پر ایک صاع اناج، یا ایک صاع پنیر، یا ایک صاع کشمش نکالا کرتے تھے۔» نوٹ: حنفی مسلک نقد رقم کی اجازت دیتا ہے اگر وہ غریب کے لیے زیادہ نفع بخش ہو، لیکن اس پر نبی کریم ﷺ یا آپ کے صحابہ سے کوئی صحیح دلیل موجود نہیں۔ پیچیدہ مسائل کے لیے کسی عالم سے رجوع کریں۔

حوالہ جات

Hadith Sahih al-Bukhari 1510; Sahih Muslim 985b
Fiqh Ibn Baz; al-Uthaymin; Permanent Committee of Islamic Research and Ifta
0
SmartGoldTrade Support
Our team will reply
Start a chat
Our team replies personally. If everyone is busy we will email you back — which is why we need your address.

Enter the 6-digit code sent to your email