← فتاویٰ پر واپس
Livestock & Agriculture جولائی 13, 2026

پھلوں کے باغات، کھجور اور کشمش پر عُشر

سوال

پھل دار درختوں، کھجور اور انگور/کشمش پر عُشر کس طرح اور کب واجب ہوتا ہے؟

حکم (فتویٰ)

مختصر جواب: عُشر (زرعی پیداوار کی زکوٰۃ) کھجور اور انگور (اور دیگر پھلوں کی فصلوں) پر آب پاشی کے طریقے کی بنیاد پر واجب ہوتا ہے۔ جو زمین بارش، قدرتی چشموں یا دریاؤں کے پانی سے سیراب ہو اُس پر شرح دسواں حصہ (10%) ہے، اور جو زمین دستی ذرائع (مثلاً کنویں یا پمپ) سے سیراب ہو اُس پر شرح بیسواں حصہ (5%) ہے۔ یہ فصل کاٹنے کے وقت واجب ہوتا ہے۔ دلائل: 1. صحیح بخاری 1483: نبی ﷺ نے فرمایا: 'جو زمین بارش کے پانی یا قدرتی نالوں سے سیراب ہو یا قریبی نالے کی وجہ سے تر ہو، اُس پر عُشر (یعنی دسواں حصہ) واجب ہے؛ اور جو زمین کنویں سے سیراب ہو، اُس پر نصف عُشر (یعنی بیسواں حصہ) واجب ہے۔' یہ عام حکم تمام زرعی پیداوار کو شامل ہے، بشمول کھجور اور انگور۔ 2. سورۃ البقرہ 2:267: 'اے ایمان والو! جو پاکیزہ مال تم نے کمایا ہے اور جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کیا ہے اُس میں سے خرچ کرو۔' اِس میں کھجور اور انگور بھی زمین کی پیداوار کے طور پر شامل ہیں۔ نوٹ: پیش کردہ نصوص میں کوئی ایسی مخصوص حدیث نہیں تھی جو کھجور یا انگور کو خاص طور پر عُشر کا موضوع قرار دے، لیکن آب پاشی کی حدیث سے حاصل ہونے والا عام اصول لاگو ہوتا ہے۔ صدقۃ الفطر سے متعلق نصوص جن میں کھجور اور کشمش کا ذکر ہے وہ الگ ہیں اور عُشر کے لیے نہیں ہیں۔ پیچیدہ مسائل میں کسی صاحبِ علم عالم سے رجوع کریں۔

حوالہ جات

Quran Surah Al-Baqarah 2:267
Hadith Sahih al-Bukhari 1483
Fiqh Ibn Baz; al-Uthaymin; Permanent Committee (based on Sahih al-Bukhari 1483)
0
SmartGoldTrade Support
Our team will reply
Start a chat
Our team replies personally. If everyone is busy we will email you back — which is why we need your address.

Enter the 6-digit code sent to your email