← فتاویٰ پر واپس
Pension & GPF جولائی 13, 2026

آجر کے غیر مستحق (اَن ویسٹڈ) حصے کی زکوٰۃ

سوال

میرا آجر فنڈ میں میری جمع کردہ رقم کے ساتھ اپنی طرف سے بھی رقم ڈالتا ہے، لیکن اگر میں مقررہ سال ملازمت پوری نہ کروں تو اس کا حصہ مجھے نہیں ملتا۔ مجھ پر کس حصے کی زکوٰۃ واجب ہے؟

حکم (فتویٰ)

مختصر جواب: حساب تین حصوں میں کیجیے: (1) آپ کی اپنی جمع کردہ رقم — اگر نکالنا ممکن ہو تو ہر سال زکوٰۃ واجب ہے، ورنہ وصولی کے وقت؛ (2) آجر کا غیر مستحق (مشروط) حصہ — ملکیت میں آیا ہی نہیں، لہٰذا اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں؛ (3) آجر کا مستحق شدہ (ویسٹڈ) حصہ — اب آپ کی ملکیت ہے؛ رسائی ممکن ہو تو ہر سال زکوٰۃ، ورنہ وصولی کے وقت۔ تفصیل: پورے مسئلے پر ایک ہی اصول حاکم ہے: زکوٰۃ صرف اسی مال میں واجب ہوتی ہے جو مکمل اور قابلِ تصرف ملکیت (ملکِ تام) میں ہو۔ استحقاق (ویسٹنگ) سے پہلے آجر کا مقابل حصہ محض ایک وعدہ ہے جو ملازمت چھوڑنے پر ساقط ہو جاتا ہے — اس لیے وہ آپ کے حساب سے باہر ہے۔ جوں ہی استحقاق مکمل ہوتا ہے، وہ حصہ آپ کا مال بن جاتا ہے؛ اب صرف رسائی کا سوال باقی رہتا ہے، جس کا حل جی پی ایف (GPF) کے اصول سے ہوتا ہے کہ ناقابلِ رسائی رقوم کی زکوٰۃ وصولی کے بعد ادا کی جائے۔ دلیل: القرآن 9:103؛ ابن ماجہ 1792 (ملکیت اور حول)؛ نیز شیخ ابن عثیمین اور اللجنۃ الدائمۃ (مستقل فتویٰ کمیٹی) کا ملکِ تام کا اصول۔ پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

حوالہ جات

Quran Quran 9:103
Hadith Ibn Majah 1792, sahih per al-Albani
Fiqh al-Uthaymin; Permanent Committee on complete ownership
0
SmartGoldTrade Support
Our team will reply
Start a chat
Our team replies personally. If everyone is busy we will email you back — which is why we need your address.

Enter the 6-digit code sent to your email