سوال
میں کئی سال سے حج کی نیت سے رقم جمع کر رہا ہوں۔ کیا عبادت کے لیے رکھی گئی رقم پر بھی زکوٰۃ واجب ہے؟
حکم (فتویٰ)
مختصر جواب: جی ہاں۔ مقصد خواہ کتنا ہی عظیم ہو — حج ہو، قربانی ہو، اولاد کی شادی ہو یا گھر کی تعمیر — جب تک رقم آپ کی ملکیت میں ہے اور نصاب و حول مکمل کرتی ہے، اس پر زکوٰۃ فرض رہتی ہے۔ نیت مال کو حساب سے خارج نہیں کرتی؛ صرف حقیقی خرچ ہی اسے حساب سے نکالتا ہے۔
تفصیل: حج استطاعت سے فرض ہوتا ہے — اور یہی بچت آپ کی استطاعت ہے؛ دونوں عبادتیں ایک دوسرے کی حریف نہیں۔ اگر زکوٰۃ دینے سے حج کا فنڈ ذرا تاخیر سے مکمل ہو تو کوئی حرج نہیں — فرض کی ادائیگی کی برکت راستہ کھولتی ہے: 'تم جو کچھ خرچ کرو گے وہ اس کا بدلہ دے گا' (القرآن 34:39)۔ جو رقم حج ایجنسی کو حتمی ادائیگی کے طور پر دی جا چکی ہو وہ اب آپ کی ملکیت نہیں رہی اور اس پر زکوٰۃ نہیں؛ صرف وہی رقم شمار ہوگی جو آپ کے ہاتھ یا اکاؤنٹ میں باقی ہے۔
دلائل: القرآن 9:103؛ ابن ماجہ 1792 (حول)؛ القرآن 34:39؛ شیخ ابن باز اور اللجنہ الدائمہ کا فتویٰ کہ حج/شادی/تعمیر کے لیے جمع شدہ رقم پر نصاب اور حول مکمل ہوتے ہی زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
حوالہ جات
Quran
Quran 9:103; 34:39
Hadith
Ibn Majah 1792, sahih per al-Albani
Fiqh
Ibn Baz; Permanent Committee on earmarked savings