← فتاویٰ پر واپس
Pension & GPF جولائی 13, 2026

بیوی یا اولاد کے نام رکھی گئی بچت — زکوٰۃ کون ادا کرے؟

سوال

ٹیکس اور سہولت کی خاطر کچھ ایف ڈی آر میں نے بیوی کے نام رکھے ہیں حالانکہ رقم درحقیقت میری ہے؛ بیوی کے اپنے زیورات اور بچت بھی ہیں۔ کس چیز کی زکوٰۃ کون ادا کرے گا؟

حکم (فتویٰ)

مختصر جواب: معیار حقیقی ملکیت ہے، کاغذ پر لکھا نام نہیں۔ (1) جو رقم بیوی کے نام رکھی گئی ہے مگر عملاً آپ کی ہے — وہ آپ کا مال ہے: اس کی زکوٰۃ آپ کے حساب میں ادا ہوگی۔ (2) جو کچھ آپ نے واقعی اسے ہبہ کر دیا — وہ اس کا مال ہے: اس کی زکوٰۃ اس کے اپنے نصاب اور حول کے اعتبار سے ہوگی، اور ادائیگی اسی کی ذمہ داری ہے (شوہر اس کی طرف سے ادا کرے تو یہ تعاون ہے، اس کی اجازت سے)۔ (3) میاں بیوی میں سے ہر ایک کا مال الگ الگ شمار ہوگا — نصاب تک پہنچنے کے لیے شوہر اور بیوی کا مال کبھی جمع نہیں کیا جاتا۔ تفصیل: اسلام میں بیوی کی ملکیت مکمل طور پر مستقل ہے — نکاح سے وہ شوہر کی نہیں ہو جاتی۔ ہبہ اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب قبضہ دے دیا جائے اور تصرف چھوڑ دیا جائے؛ «نام اس کے، مگر جب چاہوں واپس لے لوں» — یہ ہبہ نہیں، مال آپ ہی کا رہتا ہے۔ تنبیہ: زکوٰۃ یا وراثت سے بچنے کے لیے مال کو مختلف ناموں پر بکھیرنا حرام حیلہ ہے — «صدقے کے خوف سے جمع شدہ مال کو جدا نہ کیا جائے»، اور ورثاء کے حقوق پامال کرنے کا گناہ اس سے بھی سنگین ہے۔ رہا بیوی کے زیرِ استعمال زیورات کا معاملہ: دلائل کی رو سے راجح قول (دو کنگنوں والی حدیث) یہی ہے کہ ان پر بھی زکوٰۃ ہے — اور اسی پلیٹ فارم کا کیلکولیٹر بھی یہی مانتا ہے۔ دلائل: قرآن 4:32 (عورت کی مستقل ملکیت)؛ ابو داود 1563 (البانی کے نزدیک صحیح)؛ صحیح بخاری 1450۔ پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

حوالہ جات

Quran Quran 4:32
Hadith Abu Dawud 1563; Bukhari 1450
Fiqh Ibn Baz; al-Uthaymin on real ownership
0
SmartGoldTrade Support
Our team will reply
Start a chat
Our team replies personally. If everyone is busy we will email you back — which is why we need your address.

Enter the 6-digit code sent to your email