← فتاویٰ پر واپس
Real Estate جولائی 13, 2026

دکان کی سلامی (پگڑی) اور پوزیشن منی کی زکوٰۃ

سوال

میں نے مارکیٹ میں دکان لینے کے لیے مالک کو بھاری ناقابلِ واپسی سلامی دی ہے؛ یہ پوزیشن (قبضہ) بعد میں آگے فروخت بھی کی جا سکتی ہے۔ اس کی زکوٰۃ کا کیا حکم اور حساب ہے؟

حکم (فتویٰ)

مختصر جواب: (1) کرایہ دار (آپ) کی طرف سے: سلامی ادا کرتے ہی وہ رقم آپ کی ملکیت نہیں رہی — یہ ایک خرچ ہے؛ اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ اگر آپ خود اپنی تجارت کے لیے دکان چلاتے ہیں تو پوزیشن کا حق استعمالی اثاثہ ہے — اس پر زکوٰۃ نہیں؛ لیکن اگر پوزیشن کو نفع پر بیچنے کی نیت سے روکے رکھیں تو وہ مالِ تجارت ہے — ہر سال منتقلی کے بازاری نرخ پر 2.5%۔ (2) مالک کی طرف سے: وصول شدہ سلامی اس کی نقد آمدنی ہے — اس کے باقی مال میں شامل ہو کر نصاب اور حَول کے اعتبار سے زکوٰۃ کے تابع ہے۔ تفصیل: دکان کے اندر کا مالِ تجارت حسبِ معمول الگ سے زکوٰۃ کے تابع ہے؛ ڈیکوریشن اور فرنیچر مستثنیٰ مستقل اثاثے ہیں۔ عقد کی صحت: واضح طے شدہ شرائط پر پیشگی (پریمیم/پگڑی) لینا جائز اجارہ کے معاہدے کا حصہ ہے؛ لیکن کرایہ بھی لینا اور مدت ختم ہونے پر کرایہ دار کے حقِ قبضہ سے انکار بھی کرنا ظالمانہ ابہام ہے جو جھگڑوں کو جنم دیتا ہے — معاہدہ لکھ لیجیے۔ دلائل: صحیح بخاری 1 (نیت ہی طے کرتی ہے کہ استعمال ہے یا تجارت)؛ صحیح بخاری 1464 (استعمالی اثاثوں کا استثنا)؛ القرآن 2:282 (معاہدے لکھ لینے کا حکم)؛ اور اللجنۃ الدائمۃ کے مالِ تجارت اور اجارہ کے اصول۔ پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

حوالہ جات

Quran Quran 2:282
Hadith Bukhari 1, 1464
Fiqh Permanent Committee on leases and trade goods
0
اسمارٹ گولڈ ٹریڈ معاونت
ہماری ٹیم جواب دے گی
ایک چیٹ شروع کریں
ہماری ٹیم خود جواب دیتی ہے۔ سب مصروف ہوں تو ہم ای میل کریں گے — اسی لیے آپ کا پتہ چاہیے۔

ای میل پر بھیجا گیا 6 ہندسوں کا کوڈ ڈالیں