← Back to Fatwas
Foundations & Conditions Jul 13, 2026

نئے مسلمان اور گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ

Question

کیا نئے مسلمان پر اسلام سے پہلے کے سالوں کی زکوٰۃ واجب ہے، اور اس کا پہلا حول (سال کی مدت) کب سے شروع ہوگا؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: نئے مسلمان پر اسلام لانے سے پہلے کے سالوں کی زکوٰۃ واجب نہیں، اور اس کا پہلا حول (ایک سال پورا ہونے کی مدت) اسلام قبول کرنے کے بعد نصاب (وہ کم از کم مال جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے) کا مالک بننے کے لمحے سے شروع ہوتا ہے۔ تفصیل: زکوٰۃ ایک فریضہ ہے جسے اللہ نے ہر مسلمان پر فرض کیا ہے (صحیح بخاری 1454؛ سورۃ التوبہ 9:71)۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے انسان اسلامی احکام کا پابند نہیں تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکیم بن حزام کو بتایا کہ اسلام سے پہلے اس کی نیکیاں محفوظ رہیں اور اسلام لانے کے بعد اس پر اجر ملے گا (صحیح بخاری 1436)۔ یہ اصول اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گزشتہ ذمہ داریاں مسلمان کی زندگی میں منتقل نہیں ہوتیں؛ بلکہ اسلام اپنے سے پہلے کی ہر چیز کو مٹا دیتا ہے۔ لہٰذا اس مال پر کوئی زکوٰۃ واجب نہیں جو انسان اپنے قبولِ اسلام سے پہلے رکھتا تھا۔ پہلا حول اُس وقت شروع ہوتا ہے جب نئے مسلمان کے پاس نصاب ہو۔ اگر اسلام قبول کرنے کے وقت اس کے پاس نصاب موجود تھا تو سال اسی تاریخ سے شمار ہوگا۔ اور اگر وہ بعد میں نصاب حاصل کرے تو سال حصول کی تاریخ سے شروع ہوگا۔ دلائل: 1. صحیح بخاری 1454: زکوٰۃ ہر مسلمان پر فرض کی گئی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ذمہ داری اسلام قبول کرنے کے بعد سے شروع ہوتی ہے۔ 2. سورۃ التوبہ 9:71: زکوٰۃ مومنوں کا عمل ہے، جو اسے ایمان کے ساتھ جوڑتا ہے۔ 3. صحیح بخاری 1436: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئے مسلمان کو بتایا کہ اس کی گزشتہ نیکیوں کا اجر دیا جائے گا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے پہلے کی ذمہ داریاں منتقل نہیں ہوتیں۔ تنبیہ: یہ مذکورہ دلائل کی بنیاد پر ہے؛ پیچیدہ انفرادی مسائل کسی مستند عالم کے سامنے پیش کیے جانے چاہئیں۔

References

Quran Surah At-Tawbah 9:71
Hadith Sahih al-Bukhari 1454; Sahih al-Bukhari 1436
Fiqh Ahle Hadith scholars; Permanent Committee for Islamic Research and Ifta (Saudi Arabia)