← Back to Fatwas
Payment & Distribution
Jul 13, 2026
سرکاری ٹیکس اور زکوٰۃ: کیا یہ ایک دوسرے کا بدل بن سکتے ہیں؟
Question
میں پہلے ہی بھاری انکم ٹیکس ادا کرتا ہوں — کیا وہ میری زکوٰۃ میں شمار ہو سکتا ہے یا اس کی جگہ لے سکتا ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: نہیں، سرکاری ٹیکس آپ کی فرض زکوٰۃ میں شمار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کی جگہ لے سکتا ہے۔ زکوٰۃ ایک مستقل اسلامی فریضہ ہے جس کے مقررہ احکام ہیں، جبکہ ٹیکس ایک شہری ذمہ داری ہے۔ یہ دونوں الگ الگ ہیں اور ایک دوسرے کا بدل نہیں بن سکتے۔
تفصیل: صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے دلائل واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ زکوٰۃ اللہ کی مقرر کردہ ایک منفرد عبادت ہے۔ صحیح بخاری 1454 (P1) میں ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے زکوٰۃ کے تفصیلی احکام لکھے، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ مخصوص مال پر ایک مخصوص فریضہ ہے۔ نبی ﷺ نے زکوٰۃ روکنے پر سخت وعید سنائی: صحیح مسلم 987a (P8) میں آپ نے فرمایا کہ سونے چاندی کے مالک جو اس کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتے، انہیں آگ کے پتروں سے عذاب دیا جائے گا؛ اسی طرح صحیح مسلم 988a (P12) اونٹوں کے مالکوں کو خبردار کرتا ہے جو زکوٰۃ روکتے ہیں۔ یہ وعیدیں صرف زکوٰۃ پر لاگو ہوتی ہیں، ٹیکس پر نہیں۔ مزید برآں، صحیح بخاری 1468 (P2) میں نبی ﷺ نے ان لوگوں کو مخاطب کیا جنہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ایک ناقابلِ مصالحت دینی فریضہ ہے۔ کوئی حدیث یا قرآنی آیت سرکاری ٹیکس کو زکوٰۃ کا بدل بنانے کی اجازت نہیں دیتی۔ زکوٰۃ کی مخصوص شرائط ہیں (نصاب، سال کا گزرنا، شرحیں) اور اسے سورۃ التوبہ 9:60 میں مذکور آٹھ اصناف کو دینا ضروری ہے۔ ٹیکس ریاست کی طرف سے عوامی خدمات کے لیے عائد کردہ ذمہ داری ہے، اور اگرچہ ٹیکس ادا کرنا ایک شہری فرض ہے، لیکن یہ زکوٰۃ کے دینی فریضے کو پورا نہیں کرتا۔ لہٰذا آپ کو اپنے ٹیکس سے الگ زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
دلائل:
1۔ صحیح بخاری 1454 (P1) – ظاہر کرتا ہے کہ زکوٰۃ ایک مقررہ فرض صدقہ ہے جس کے تفصیلی احکام ہیں۔
2۔ صحیح بخاری 1468 (P2) – نبی ﷺ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کو ایک سنگین معاملہ سمجھا۔
3۔ صحیح مسلم 987a (P8) – سونے چاندی کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر سخت سزا۔
4۔ صحیح مسلم 988a (P12) – اونٹوں کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر سخت سزا۔
تنبیہ: یہ فراہم کردہ دلائل کی بنیاد پر ایک عمومی فتویٰ ہے۔ مخلوط مال یا خاص حالات پر مشتمل پیچیدہ مسائل کے لیے کسی صاحبِ علم عالم سے رجوع کریں۔
References
Hadith
Sahih al-Bukhari 1454; Sahih al-Bukhari 1468; Sahih Muslim 987a; Sahih Muslim 988a
Fiqh
Ibn Baz; al-Uthaymin; Permanent Committee for Islamic Research and Ifta