Question
میں حکومت کی یونیورسل پنشن اسکیم میں ماہانہ چندہ جمع کر رہا ہوں — ساٹھ سال کی عمر سے پہلے رقم نہیں نکالی جا سکتی، اور منافع کی شرح پہلے سے اعلان شدہ ہے۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے اور زکوٰۃ کیسے ہوگی؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: (1) زکوٰۃ: جمع شدہ چندہ ساٹھ سال کی عمر تک آپ کے اختیار سے باہر رہتا ہے — ملکیت نامکمل ہے؛ لہٰذا جی پی ایف (GPF) کے اصول پر پنشن یا یکمشت رقم ہاتھ میں آنے سے پہلے زکوٰۃ واجب نہیں؛ ملنے کے بعد نقدی کے احکام جاری ہوں گے۔ (2) حکم: اگر اسکیم جمع شدہ رقم پر پہلے سے طے شدہ/یقینی شرح سے اضافہ دیتی ہے تو یہ قرض پر مشروط اضافے (سود/ربا) کے ڈھانچے میں آتا ہے — دلیل پر مبنی محتاط موقف یہ ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے؛ اگر شمولیت لازمی ہو (ملازمت کی شرط) تو اپنے اصل چندے سے زائد جو کچھ ملے اسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر کے اس سے سبکدوش ہو جائیں۔
تفصیل: اسکیموں کے ڈھانچے مختلف ہوتے ہیں — دیکھیں کہ رقم واقعی نفع و نقصان کی شراکت کے ساتھ سرمایہ کاری میں لگتی ہے، یا معاملہ محض «رقم جمع کرو اور مقررہ شرح پر وصول کرو» کا ہے (جو سودی ڈھانچہ ہے)۔ رضاکارانہ شمولیت سے پہلے اسکیم کے کاغذات کسی مستند عالم کو دکھا کر جانچ کرا لینا ضروری ہے۔ چندہ دینے والے کی وفات کے بعد نامزد شخص (نامینی) کو ملنے والا حصہ وصول کنندہ کے ہاتھ میں نیا مال ہے — حساب وصولی کے وقت سے ہوگا۔
دلائل: القرآن 2:275، 2:279؛ ابن ماجہ 1792 (ملکیت اور حول)؛ پراویڈنٹ فنڈ کے بارے میں اللجنۃ الدائمۃ (مستقل فتویٰ کمیٹی) کے اصول۔
پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:275, 2:279
Hadith
Ibn Majah 1792, sahih per al-Albani
Fiqh
Permanent Committee on provident funds