Question
میری دولت امریکی حصص، ایک ڈالر اکاؤنٹ اور مقامی حصص میں پھیلی ہوئی ہے۔ زکوٰۃ کس کرنسی میں اور کس ریٹ پر شمار کروں؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: ہر چیز کو اپنی زکوٰۃ کے دن کے رائج شرحِ تبادلہ پر ایک ہی کرنسی (عموماً اپنے ملک کی کرنسی) میں تبدیل کر کے سب کو جمع کر لیں۔ اگر مجموعہ نصاب سے بڑھ جائے تو 2.5% ادا کریں — کسی بھی کرنسی میں، بشرطیکہ پوری قیمت ادا ہو جائے۔ مختلف کرنسیوں یا ملکوں میں پھیلی ہوئی دولت کے الگ الگ نصاب نہیں ہوتے — مالک ایک، تو حساب بھی ایک۔
تفصیل: تمام کاغذی کرنسیاں سونے اور چاندی کے قائم مقام ہو کر ایک ہی نقدی جنس شمار ہوتی ہیں — ڈالر کو ٹکا یا ریال میں بدلنے سے حول نہیں ٹوٹتا۔ وہی ریٹ لیں جس پر آپ حقیقتاً تبادلہ کر سکتے ہیں (بینک/جائز مارکیٹ ریٹ)۔ غیر ملکی بروکریج کے حصص پر بھی وہی احکام لاگو ہوں گے جو مقامی حصص پر — تجارت کی صورت میں بازاری قیمت پر، ورنہ طویل مدتی طریقے پر؛ اور ود ہولڈنگ ٹیکس کٹنے کے بعد منافع منقسمہ (ڈیویڈنڈ) کی خالص رقم ہی حساب میں آئے گی۔
دلائل: قرآن 9:103 (دولت جہاں اور جس صورت میں بھی ہو)؛ صحیح بخاری 1454؛ صحیح مسلم 1587 (نقدین کا ہاتھوں ہاتھ تبادلہ)؛ اور اللجنۃ الدائمہ اور شیخ ابن باز کا قول کہ کاغذی کرنسیاں نقد ہیں جن کی قیمتیں زکوٰۃ میں یکجا ہو جاتی ہیں۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:103
Hadith
Bukhari 1454; Muslim 1587
Fiqh
Permanent Committee; Ibn Baz on currencies