← Back to Fatwas
Business & Trade Jul 13, 2026

خام مال اور زیرِ تیاری اشیاء کی زکوٰۃ

Question

میری فیکٹری میں خام مال، نیم تیار اور تیار شدہ اشیاء موجود ہیں — ان میں سے کن پر زکوٰۃ ہے اور کیسے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: فروخت کی نیت سے رکھا گیا تمام مالِ تجارت (خام مال، زیرِ تیاری اور تیار شدہ اشیاء) عروضِ تجارت کے طور پر زکوٰۃ کے تابع ہے، بشرطیکہ اس کی کل قیمت نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک قمری سال (حول) گزر جائے۔ فراہم کردہ احادیث میں فیکٹری کے مال کا صریح ذکر نہیں، تاہم ان سے مستنبط عمومی اصول اس پر لاگو ہوتے ہیں۔ تفصیل: - تیار شدہ اشیاء: یہ بلاشبہ عروضِ تجارت ہیں؛ ہر سال کے اختتام پر ان کی بازاری قیمت پر زکوٰۃ واجب ہے۔ - خام مال: اگر پیداوار اور بعد ازاں فروخت کے لیے خریدا گیا ہو، تو یہ عروضِ تجارت کا حصہ شمار ہوتا ہے۔ سال کے آخر میں اس کی موجودہ بازاری قیمت (گویا فروخت کر دیا گیا ہو) پر زکوٰۃ کا حساب کیا جائے گا۔ - زیرِ تیاری اشیاء: نیم تیار اشیاء کی موجودہ حالت میں بازاری قیمت (مال اور مزدوری کی لاگت سمیت) لگائی جائے گی اور کل زکوٰۃ کے قابل مال میں شامل کی جائے گی۔ - تمام اثاثے یکجا کیے جاتے ہیں؛ اگر کل قیمت (قرض منہا کرنے کے بعد) نصاب (85 گرام سونا یا 595 گرام چاندی کے مساوی) کو پہنچ جائے، تو 2.5% زکوٰۃ واجب ہوگی۔ دلائل: 1. صحیح بخاری 1404 (P10): نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا اور چاندی جمع کر کے زکوٰۃ نہ دینے سے خبردار فرمایا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کوئی بھی ذخیرہ شدہ مال (بشمول مالِ تجارت) زکوٰۃ کے تابع ہے اگر وہ تجارت کے لیے جمع کیا گیا ہو۔ 2. صحیح بخاری 1459 (P11) اور صحیح بخاری 1405 (P12): نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی، اونٹ اور کھجور کے لیے کم از کم نصاب مقرر فرمایا۔ قیاس کرتے ہوئے، عروضِ تجارت کے لیے بھی نصاب (چاندی/سونے کی قیمت کے برابر) ہے۔ یہ احادیث زکوٰۃ کے قابل مال کے لیے نصاب کا اصول قائم کرتی ہیں۔ 3. صحیح بخاری 1451 (P4): مشترکہ مال زکوٰۃ کے لیے یکجا کیا جاتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت تمام کاروباری اثاثے یکجا کیے جائیں۔ نوٹ: فراہم کردہ دلائل خام مال یا زیرِ تیاری اشیاء کو براہِ راست بیان نہیں کرتے؛ یہ حکم اہلِ علم کے اجماع (ابن باز، العثیمین، اللجنۃ الدائمہ) پر ان عمومی احادیث سے قیاس کرتے ہوئے مبنی ہے۔ پیچیدہ معاملات میں کسی صاحبِ علم عالم سے رجوع کریں۔

References

Hadith Sahih al-Bukhari 1404; Sahih al-Bukhari 1459; Sahih al-Bukhari 1405; Sahih al-Bukhari 1451
Fiqh Ibn Baz; al-Uthaymin; Permanent Committee