← Back to Fatwas
Cash, Bank & Savings
Jul 13, 2026
اپنی تمام رقم کی زکوٰۃ کے لیے ایک سالانہ تاریخ مقرر کرنا
Question
میری آمدنی سال بھر آتی رہتی ہے — میں ہر رقم کے حول (ایک سال) کو الگ الگ گننے کے بجائے ایک مقررہ زکوٰۃ کی تاریخ کیسے طے کروں؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: آپ اپنی تمام بچتوں کے لیے ایک سالانہ تاریخ منتخب کر سکتے ہیں، لیکن حول (ایک قمری سال) کی شرط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر رقم کے حول کو الگ الگ شمار کیا جائے، لیکن اگر یہ مشکل ہو تو آپ ایک تاریخ (مثلاً رمضان کا آغاز) مقرر کر سکتے ہیں اور اُس دن اپنے پاس موجود تمام نقدی اور بچت کی زکوٰۃ کا حساب لگا سکتے ہیں، بشرطیکہ مجموعی رقم نصاب کو پہنچ چکی ہو۔ اُس تاریخ کے بعد ملنے والی رقوم اگلے سال کے حساب میں شامل ہوں گی۔ یہ اس بنا پر جائز ہے کہ زکوٰۃ کی فرضیت عام ہے (صحیح بخاری 1454) اور اسے ادا نہ کرنے پر سخت وعید آئی ہے (صحیح مسلم 987a)۔ دلائل میں صراحتاً ایک تاریخ مقرر کرنے کا ذکر نہیں، لیکن اسلام کا اصولِ آسانی اور بہت سے صحابہ کا عمل اس کی تائید کرتا ہے۔ دلائل: 1) صحیح بخاری 1454 مال میں زکوٰۃ کی فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔ 2) صحیح مسلم 987a سونے چاندی کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر عذاب سے خبردار کرتا ہے۔ 3) سورۃ التوبہ 9:71 زکوٰۃ کو فریضہ قرار دیتی ہے۔ 4) کسی خاص ممانعت کا نہ ہونا گنجائش فراہم کرتا ہے۔
نوٹ: اگر آپ کی آمدنی میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ ہو تو مزید درستگی کے لیے کسی عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Surah At-Tawbah 9:71
Hadith
Sahih al-Bukhari 1454; Sahih Muslim 987a
Fiqh
Based on general zakat evidence from Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim; practice of early Muslims (not detailed in evidence). Acceptable alternative: unified date method.