← Back to Fatwas
Foundations & Conditions Jul 13, 2026

جب آپ کو قابلِ زکوٰۃ مال کی صحیح مقدار کا یقین نہ ہو

Question

اگر میں اپنے مال کی صحیح مقدار یا گزشتہ سالوں کا درست تعین نہ کر سکوں، تو اپنی زکوٰۃ کا اندازہ کیسے لگاؤں؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: آپ کو اپنے قابلِ زکوٰۃ مال کا ایک مخلص اور معقول اندازہ لگانا ضروری ہے، اور اس فریضے کی ادائیگی کے لیے احتیاط کے پہلو کو اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ زکوٰۃ ایک سخت فریضہ ہے اور لاعلمی اس میں عذر نہیں بنتی۔ تفصیل: زکوٰۃ ہر اُس مسلمان پر فرض ہے جس کے پاس نصاب (کم از کم مقدار) کو پہنچنے والا مال پورا ایک قمری سال موجود رہے۔ صحیح احادیث میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر سخت عذاب کی وعید آئی ہے (مثلاً صحیح بخاری 1403، صحیح مسلم 987a)۔ اگر آپ کو اپنے مال کی صحیح مقدار یا گزشتہ سالوں کی تعداد کے بارے میں یقین نہ ہو، تو دستیاب ریکارڈ، یادداشت یا معقول تخمینے کی بنیاد پر جہاں تک ممکن ہو درست اندازہ لگائیں۔ اصول یہ ہے کہ فریضے کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے احتیاط کے پہلو کو اختیار کیا جائے۔ گزشتہ چھوٹے ہوئے سالوں کے لیے ہر سال کے مال کی تقریبی مقدار کا حساب لگائیں اور اس کے مطابق واجب زکوٰۃ ادا کریں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو جتنی مقدار غالب گمان میں کافی معلوم ہو وہ ادا کریں اور اللہ سے سچی توبہ کریں۔ قرآن (سورۃ الروم 30:39) اور احادیث میں زور دیا گیا ہے کہ زکوٰۃ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہے، اس لیے نیت کی اہمیت ہے۔ زکوٰۃ کی تفصیلی شرحیں (صحیح بخاری 1454) وہ معیار فراہم کرتی ہیں جسے آپ اپنی اندازہ شدہ مقدار پر لاگو کریں۔ دلائل: 1۔ صحیح بخاری 1403: زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی سزا کے بارے میں سخت وعید، جو اس کی فرضیت کو اجاگر کرتی ہے۔ 2۔ صحیح مسلم 987a: ایک اور سخت وعید، جو ظاہر کرتی ہے کہ غفلت قابلِ معافی نہیں۔ 3۔ صحیح مسلم 990a: نبی ﷺ نے اُن لوگوں کو خسارے میں قرار دیا جو زکوٰۃ ادا کیے بغیر مال جمع کرتے ہیں۔ 4۔ صحیح مسلم 94d: اسی طرح کی وعید، جو زکوٰۃ ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ 5۔ سورۃ الروم 30:39: زکوٰۃ اللہ کی رضا کے لیے ہے، اس لیے مخلصانہ اندازہ قابلِ قبول ہے۔ 6۔ صحیح بخاری 1454: تفصیلی زکوٰۃ کا جدول جسے آپ اپنے اندازہ شدہ مال پر لاگو کریں۔ تنبیہ: یہ ایک عمومی رہنمائی ہے۔ متعدد اثاثوں یا سالوں پر مشتمل پیچیدہ معاملات کے لیے کسی صاحبِ علم عالم سے اپنی صورتحال کے مطابق مشورہ کریں۔

References

Quran Surah Ar-Rum 30:39
Hadith Sahih al-Bukhari 1403; Sahih Muslim 987a; Sahih Muslim 990a; Sahih Muslim 94d; Sahih al-Bukhari 1454
Fiqh Ibn Baz; al-Uthaymin; Permanent Committee