Question
زکوٰۃ فرض ہو جانے کے بعد اس کی ادائیگی میں تاخیر کرنا کیا گناہ ہے؟ اور اگر کوئی برسوں تک بھول جائے تو کیا کرے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: زکوٰۃ فرض ہو جانے کے بعد کسی شرعی عذر کے بغیر جان بوجھ کر تاخیر کرنا گناہ ہے، کیونکہ صحیح احادیث میں اس پر سخت وعید آئی ہے۔ اگر کوئی شخص برسوں تک زکوٰۃ ادا کرنا بھول جائے تو اس پر لازم ہے کہ توبہ کرے، ان برسوں کی واجب زکوٰۃ کا حساب لگائے اور یاد آتے ہی جلد از جلد ادا کرے۔ توبہ اور ادائیگی سے گناہ معاف ہو جاتا ہے، لیکن ذمہ داری اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک ادا نہ کر دی جائے۔
تفصیل: زکوٰۃ ایک مقررہ وقت (ایک قمری سال گزرنے کے بعد) والی فرض عبادت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح مسلم 987a میں خبردار کیا کہ جو لوگ سونے اور چاندی کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، انہیں قیامت کے دن آگ کے تختوں سے عذاب دیا جائے گا۔ یہ زکوٰۃ نہ دینے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ صحیح بخاری 1468 میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ دینے سے انکار کرنے والوں پر عتاب فرمایا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بلا عذر جان بوجھ کر انکار یا تاخیر مذموم ہے۔ اسی طرح صدقۃ الفطر کو عید کی نماز سے پہلے ادا کرنے کا حکم دیا گیا (بخاری 1503)، جو وقت کی پابندی پر زور دیتا ہے۔ اگرچہ مذکورہ احادیث برسوں تک بھول جانے کے مسئلے پر صراحتاً بحث نہیں کرتیں، لیکن ان وعیدوں سے یہی اصول نکلتا ہے کہ زکوٰۃ کا قرض ذمے میں باقی رہتا ہے۔ اگر کوئی بھول جائے تو یاد آتے ہی چھوٹی ہوئی ادائیگیاں پوری کرنا لازم ہے۔ صریح نصوص کی بنا پر، بلا عذر تاخیر گناہ ہے، اور اس کا کفارہ صرف فوری ادائیگی اور سچی توبہ ہے۔
دلائل:
۱۔ صحیح مسلم 987a: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور چاندی کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کو سخت عذاب کی وعید سنائی۔
۲۔ صحیح بخاری 1468: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ دینے سے انکار کرنے والوں پر عتاب فرمایا، جو اس کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
۳۔ صحیح بخاری 1503: صدقۃ الفطر عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا لازم ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ تاخیر جائز نہیں۔
[نوٹ: بھولے ہوئے برسوں اور رقم کے تخمینے سے متعلق پیچیدہ مسائل میں کسی عالم سے رجوع کریں۔]
References
Hadith
Sahih Muslim 987a; Sahih al-Bukhari 1468; Sahih al-Bukhari 1503
Fiqh
Based on Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim; evidence from the Permanent Committee for Islamic Research and Ifta and scholars such as Ibn Baz and al-Uthaymin.