← Back to Fatwas
Recipients (8 Categories) Jul 13, 2026

پوری زکوٰۃ ایک شخص کو دینا

Question

کیا مجھے اپنی زکوٰۃ آٹھوں مصارف میں تقسیم کرنی ضروری ہے، یا میں پوری زکوٰۃ کسی ایک محتاج شخص کو دے سکتا ہوں؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: سورۃ التوبہ (9:60) میں مذکور آٹھ مصارف میں سے کسی ایک مستحق شخص کو اپنی پوری زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ آپ پر آٹھوں مصارف میں تقسیم کرنا لازم نہیں۔ تفصیل: آیت (9:60) زکوٰۃ کے مستحقین کی اصناف بیان کرتی ہے، لیکن ہر صنف پر تقسیم کو واجب نہیں کرتی۔ جمہور علماء، بشمول مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء (اللجنۃ الدائمہ)، کا مذہب یہ ہے کہ اس فہرست کا مقصد یہ بتانا ہے کہ زکوٰۃ کن کو دی جا سکتی ہے، نہ کہ ان سب میں تقسیم واجب کرنا۔ خود نبی ﷺ نے ایک مقروض کو زکوٰۃ کا سارا مال دیا (صحیح مسلم 1044)، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ادائیگی کو ایک مستحق پر مرکوز کرنا درست ہے۔ نیز یہ اصول کہ ایک محتاج کو دینے سے فریضہ ادا ہو جاتا ہے، خاص طور پر جب وہ شخص سخت حاجت مند ہو، فقراء کی خبر گیری کے عام حکم سے ثابت ہوتا ہے (صحیح بخاری 1428)۔ لہٰذا اگر آپ چاہیں تو اپنی پوری زکوٰۃ ایک محتاج شخص کو دے سکتے ہیں، اور وہ قبول ہوگی۔ دلائل: 1۔ سورۃ التوبہ 9:60 – آٹھ مصارف کا ذکر کرتی ہے لیکن تقسیم کو واجب نہیں کرتی۔ 2۔ صحیح مسلم 1044 – نبی ﷺ نے پوری زکوٰۃ ایک مقروض (قبیصہ) کو دی۔ 3۔ فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ (P3) – اس کی تصدیق کرتی ہے کہ آٹھوں مصارف میں تقسیم واجب نہیں؛ پوری زکوٰۃ ایک مستحق شخص کو دینا جائز ہے۔ نوٹ: یہ دلیل پر مبنی موقف ہے۔ اگر آپ کی صورتِ حال میں پیچیدہ خاندانی یا علاقائی پہلو شامل ہوں تو کسی معتبر عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Surah At-Tawbah 9:60
Hadith Sahih Muslim 1044
Fiqh Permanent Committee for Islamic Research and Ifta (al-Lajnah al-Da'imah); majority of scholars (jumhur)