← Back to Fatwas
Recipients (8 Categories)
Jul 13, 2026
ہسپتال، کنویں اور آفات زدگان کی امداد میں زکوٰۃ
Question
کیا زکوٰۃ سے ہسپتال بنانا، کنواں کھودنا، یا سیلاب اور آفات کی امداد میں دینا جائز ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: نہیں، براہِ راست ہسپتال بنانے، کنواں کھودنے یا عمومی آفات کی امداد کے منصوبوں میں زکوٰۃ دینا جائز نہیں، کیونکہ زکوٰۃ کو سورۃ التوبہ 9:60 میں بیان کردہ آٹھ مصارف تک محدود رکھنا ضروری ہے اور کسی فرد مستحق کو مالک بنانا (تملیک) شرط ہے۔ البتہ اگر زکوٰۃ کسی معیّن فقیر یا مسکین کو دی جائے اور وہ اسے علاج، پانی یا آفت کی ضرورت میں استعمال کرے تو بالواسطہ طور پر جائز ہو سکتی ہے۔
تفصیل: سورۃ التوبہ 9:60 میں بیان کردہ آٹھ مصارف یہ ہیں: فقراء، مساکین، زکوٰۃ کے کارندے، تالیفِ قلب والے، غلاموں کی آزادی، مقروض، اللہ کی راہ میں (فی سبیل اللہ) اور مسافر۔ دلیل کے اعتبار سے راجح قول، جو مستقل کمیٹی اور شیخ ابن باز کا ہے، یہ ہے کہ 'فی سبیل اللہ' سے بنیادی مراد جہاد اور اس کی تیاری ہے، نہ کہ عمومی فلاحِ عامہ۔ لہٰذا ہسپتال بنانا، کنویں کھودنا یا آفات کی امداد کو بطور منصوبہ فنڈ کرنا کسی مصرف میں شامل نہیں ہوتا اور اس میں کسی فرد کو تملیک نہیں ہوتی۔ احادیث (مثلاً صحیح بخاری 1454، 1455؛ صحیح مسلم 987a) زکوٰۃ کو اس کے صحیح مستحقین تک درست طور پر پہنچانے پر زور دیتی ہیں۔ ایک اقلیتی رائے 'فی سبیل اللہ' کو تمام نیکیوں تک وسیع کرتی ہے، مگر وہ کمزور سمجھی جاتی ہے۔
دلائل:
1. سورۃ التوبہ 9:60 صراحتاً زکوٰۃ کو آٹھ مصارف تک محدود کرتی ہے۔ (P1)
2. مستقل کمیٹی: ہسپتالوں، کنوؤں، سڑکوں یا عمومی فلاحی منصوبوں میں براہِ راست زکوٰۃ دینا درست نہیں، کیونکہ زکوٰۃ آٹھ مصارف تک محدود ہے اور تملیک شرط ہے۔ (P2)
3. مستقل کمیٹی اور ابن باز: 'فی سبیل اللہ' کا مطلب جہاد اور اس کی تیاری ہے، نہ کہ عمومی فلاحِ عامہ۔ (P3)
تنبیہ: یہ فتویٰ فراہم کردہ دلائل پر مبنی ہے۔ پیچیدہ یا انفرادی مسائل میں کسی صاحبِ علم عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Surah At-Tawbah 9:60
Fiqh
Permanent Committee (al-Lajnah al-Da'imah); Ibn Baz; al-Uthaymin