Question
اگر مجھے زمین میں دفن شدہ زمانۂ جاہلیت کا خزانہ ملے یا میں زمین سے معدنیات نکالوں، تو کتنی زکوٰۃ واجب ہوگی؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: دونوں صورتیں مختلف ہیں۔ (1) رِکاز — یعنی زمین میں دفن شدہ زمانۂ جاہلیت کا خزانہ — اس میں پانچواں حصہ (20%، خُمس) واجب ہے، ملتے ہی فوراً ادا کرنا ہوگا، نہ کوئی نصاب ہے اور نہ سال گزرنے کا انتظار۔ (2) معدِن — یعنی وہ معدنیات جو آپ زمین سے نکالتے ہیں — رِکاز سے مختلف ہے: سونے چاندی کی کچی دھات میں دلیل پر مبنی راجح قول یہ ہے کہ نصاب کو پہنچنے پر چالیسواں حصہ (2.5%) واجب ہے، جو نکالنے اور صاف کرنے کے وقت ہی ادا ہوگا، الگ سے حَول (سال) شرط نہیں (فصل کی کٹائی کی طرح)۔
تفصیل: فرق کی بنیاد محنت اور اصل پر ہے۔ رِکاز وہ مال ہے جسے کسی اور نے دفن کیا اور آپ نے محض پا لیا، اس لیے اس کی شرح زیادہ (20%) اور غیر مشروط ہے۔ نکالی جانے والی معدنیات میں محنت اور عمل درکار ہے، اس لیے اس میں ہلکی شرح ہے۔ اگر ملنے والے خزانے پر مسلمانوں کی نشانی (اسلامی سکے یا علامات) ہو تو وہ رِکاز نہیں بلکہ لُقطہ (گمشدہ مال) کے حکم میں ہے۔ جو زمین کا مالک ہو وہی اس میں پائی جانے والی چیز کا مالک ہے؛ بے مالک زمین میں ملنے والا خزانہ پانے والے کا ہے، پھر بھی اس پر خُمس واجب ہے۔ ٹھوس غیر قیمتی معدنیات (لوہا، تانبا وغیرہ) میں علماء کا اختلاف ہے — کوئی 2.5% کہتا ہے، کوئی خُمس، اور کوئی معاف قرار دیتا ہے؛ بڑے پیمانے کی کان کنی میں کسی عالم سے رجوع کرنا چاہیے۔ خُمس اور معدنی دولت میں ریاست کا حصہ فرد کی زکوٰۃ سے باہر نظم و نسق کے مسائل ہیں۔
دلائل:
1. 'اور رِکاز (دفینہ) میں پانچواں حصہ ہے' — صحیح بخاری 1499 (نبی صلى الله عليه وسلم نے دفن شدہ خزانے میں 20% مقرر کیا)۔
2. 'اے ایمان والو! جو پاکیزہ مال تم نے کمایا ہے اور جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے، اس میں سے خرچ کرو' — سورۃ البقرہ 2:267 (زمین کی پیداوار زکوٰۃ کے قابل ہے)۔
3. مستقل کمیٹی (اللجنۃ الدائمہ) اور شیخ ابن باز: معدِن رِکاز سے مختلف ہے — سونے چاندی کی کچی دھات میں نصاب پر 2.5%، جو نکالنے کے وقت واجب ہے، الگ حَول نہیں؛ دیگر معدنیات میں اختلاف ہے۔
پیچیدہ انفرادی معاملات میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:267
Hadith
Sahih al-Bukhari 1499
Fiqh
Permanent Committee; Ibn Baz — ma'din vs rikaz