Question
مجھے اسٹیکنگ ریوارڈز یا مائننگ سے نئے کوائن ملتے ہیں۔ کیا ان کی زکوٰۃ ملتے ہی فوراً ادا کروں یا سال گزرنے کے بعد؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: فوراً نہیں۔ یہ انعامات آپ کے مجموعی نقدی مال میں شامل ہو جاتے ہیں؛ آپ کے مقررہ سالانہ یومِ زکوٰۃ پر جو کچھ آپ کے پاس ہو اس پر 2.5% ادا کر دینے سے فریضہ ادا ہو جاتا ہے — یہی سب سے آسان اور محفوظ طریقہ ہے۔
تفصیل: سال کے دوران حاصل ہونے والا مال (مالِ مستفاد) اصولاً اپنا الگ حول چاہتا ہے، لیکن اسے اپنے موجودہ نصاب کو پہنچے ہوئے مال کے ساتھ ملا کر ایک ہی سالانہ تاریخ پر سب کی زکوٰۃ دینا جائز بلکہ بہتر ہے — اس میں بس کچھ زکوٰۃ قدرے پہلے ادا ہو جاتی ہے، اور زکوٰۃ پیشگی دینا جائز ہے۔ شیخ ابن عثیمین نے تنخواہ دار حضرات کو یہی طریقہ بتایا ہے۔
دلائل: ابن ماجہ 1792 (حول کی شرط، البانی نے صحیح کہا)؛ قرآن 9:103؛ وقفے وقفے سے ملنے والی آمدنی کے بارے میں شیخ ابن عثیمین کی رہنمائی (مجموع فتاویٰ و رسائل، زکوٰۃ)۔
تنبیہ: جو اسٹیکنگ اسکیمیں سود جیسی یقینی شرحِ منافع دیتی ہیں یا رقوم سودی قرض پر لگاتی ہیں، وہ ربا (سود) کے زمرے میں آ سکتی ہیں (قرآن 2:275) — اسکیم کی حقیقت کی تحقیق کر لیں۔ مائننگ بذاتِ خود خدمت پر مبنی کمائی ہے، اس میں اصولی طور پر کوئی حرج نہیں۔
پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:103; 2:275
Hadith
Ibn Majah 1792, sahih per al-Albani
Fiqh
al-Uthaymin on periodic income