Question
میں شیئرز اس نیت سے خریدتا ہوں کہ قیمت بڑھنے پر بیچ دوں گا۔ ان شیئرز کی زکوٰۃ کا حساب کیسے کروں؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: دوبارہ بیچنے کی نیت سے رکھے گئے شیئرز عروضِ تجارت (مالِ تجارت) ہیں۔ اپنے یومِ زکوٰۃ پر پورٹ فولیو کی مکمل بازاری قیمت (مارکیٹ ویلیو) کا 2.5% ادا کریں — خرید کی قیمت پر نہیں۔
تفصیل: جمع شدہ منافع (ڈیویڈنڈ) اور بروکریج اکاؤنٹ میں پڑی نقدی بھی اسی حساب میں شامل کریں۔ سال کے دوران ایک شیئر بیچ کر دوسرا خریدنے سے حول نہیں ٹوٹتا، اور نفع اصل سرمائے کے حول کے تابع ہوتا ہے۔ اگر آپ خسارے میں ہوں تو یومِ زکوٰۃ کی اصل بازاری قیمت ہی کا اعتبار ہوگا۔
دلائل: قرآن 2:267 (اپنی پاکیزہ کمائی میں سے خرچ کرنا — جس میں مالِ تجارت بھی شامل ہے)؛ صحیح بخاری 1454 (نقدی مال میں چالیسواں حصہ)؛ اللجنۃ الدائمۃ (مستقل فتویٰ کمیٹی) اور شیخ ابن باز کا فتویٰ کہ تجارتی شیئرز کی قیمت ہر سال بازاری نرخ پر لگائی جائے؛ AAOIFI شرعی معیار 35 (زکوٰۃ) میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔
عملی طریقہ: اپنے یومِ زکوٰۃ پر بروکریج اسٹیٹمنٹ کھولیں ← تمام شیئرز کی بازاری قیمت + نقد بیلنس + واجب الوصول ڈیویڈنڈ جمع کریں ← 2.5% ادا کریں۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:267
Hadith
Sahih al-Bukhari 1454
Fiqh
Permanent Committee; Ibn Baz; AAOIFI Std 35