Question
میری کمپنی شیئرز/RSU دیتی ہے — کچھ ابھی ویسٹ (vest) نہیں ہوئے، کچھ لاک اِن (lock-in) میں ہیں۔ کس حصے پر زکوٰۃ واجب ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: (الف) غیر ویسٹڈ RSU: ابھی آپ ان کے مالک ہی نہیں — ملازمت چھوڑنے پر ختم ہو جاتے ہیں — لہٰذا ان پر زکوٰۃ نہیں۔ (ب) ویسٹڈ شیئرز: آپ کا مال ہیں — ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔ (ج) ویسٹڈ مگر لاک اِن: ملکیت مکمل ہے، اس لیے راجح قول کے مطابق ان پر زکوٰۃ واجب ہے؛ اگر نقدی میسر نہ ہو تو ادائیگی مؤخر کر سکتے ہیں اور لاک کھلنے یا فروخت کے وقت جمع شدہ برسوں کی زکوٰۃ یکمشت ادا کر دیں۔
تفصیل: زکوٰۃ کے وجوب کی شرط مکمل ملکیت (ملکِ تام) ہے۔ غیر ویسٹڈ گرانٹ محض ایک مشروط وعدہ ہے جو آئندہ واقعات پر موقوف ہے، لہٰذا وہ حساب سے خارج ہے۔ ویسٹنگ کے دن سے شیئرز کی قیمت آپ کے مال میں شامل ہو جاتی ہے اور آپ کے سالانہ یومِ زکوٰۃ پر اس کا حساب ہوگا۔ لاک شدہ شیئرز بدستور آپ ہی کی ملکیت ہیں — قیمت میں اضافہ اور ڈیویڈنڈ سمیت — اس لیے وہ دسترس سے باہر مال (مالِ ضمار) نہیں؛ پابندی صرف نقدی نہ ہونے کی بنا پر ادائیگی مؤخر کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔
دلائل: القرآن 9:103 («ان کے مالوں سے» — یعنی جس کے وہ مالک ہیں)؛ ابن ماجہ 1792 (ملکیت سے پہلے حول شروع ہی نہیں ہوتا)؛ اور شیخ ابن عثیمین اور لجنہ دائمہ کا اصول کہ نامکمل ملکیت پر زکوٰۃ نہیں۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:103
Hadith
Ibn Majah 1792, sahih per al-Albani
Fiqh
al-Uthaymin; Permanent Committee on complete ownership