Question
مجھے مختلف پروجیکٹس کے ایئرڈراپس سے مفت ٹوکن ملتے ہیں — کچھ کی بازاری قیمت ہے اور کچھ تو بیچے بھی نہیں جا سکتے۔ ان کی زکوٰۃ کیسے ادا کی جائے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: ایئرڈراپ ہبہ (تحفے) کے طور پر ملنے والا مال ہے — جس دن ملا اسی دن سے آپ کی ملکیت ہے۔ جن ٹوکنز کی حقیقی بازاری قیمت ہو اور وہ فروخت ہو سکتے ہوں، وہ آپ کے دیگر نقدی نوعیت کے اموال میں شامل ہوں گے اور آپ کے سالانہ یومِ زکوٰۃ پر 2.5% ادا کی جائے گی۔ جو ٹوکن فروخت کے قابل نہ ہوں یا بے قیمت ہوں ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں — حساب اسی دن سے شروع ہوگا جب انہیں قیمت حاصل ہو۔
تفصیل: مفت ملنے والا مال مالِ مستفاد کے احکام کے تابع ہے — اصولاً اس کا اپنا الگ حول درکار ہوتا ہے، مگر اسے اپنے موجودہ سالانہ حساب میں شامل کر لینا جائز اور آسان تر ہے (بس اتنا ہے کہ کچھ زکوٰۃ ذرا پہلے ادا ہو جاتی ہے)۔ لاک شدہ، ناقابلِ کلیم ایئرڈراپ غیر حاصل شدہ (اَن ویسٹڈ) اثاثوں کی طرح ہیں — ملکیت مکمل ہونے تک حساب سے باہر۔
دلائل: قرآن 9:103؛ ابن ماجہ 1792 (ملکیت اور حول کے بارے میں، البانی کے نزدیک صحیح)؛ اور شیخ ابن عثیمین کی دورانِ سال حاصل ہونے والے مال سے متعلق رہنمائی۔
احتیاط: جن ایئرڈراپس کی شرط جوے جیسے کام، جھوٹی تشہیر یا حرام پروجیکٹس کی ترویج ہو، ان کے حصول کی کوشش ناجائز ہے — کمائی کا ذریعہ حلال ہونا ضروری ہے۔
پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:103
Hadith
Ibn Majah 1792, sahih per al-Albani
Fiqh
al-Uthaymin on newly acquired wealth