Question
میرا مہر پوری طرح ادا نہیں ہوا — کچھ حصہ واجب الادا ہو کر باقی ہے اور کچھ 'مطالبے پر ادا' یعنی مؤجل رکھا گیا ہے۔ کیا بیوی کی حیثیت سے مجھے اس واجب الوصول رقم کی زکوٰۃ دینی ہوگی؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: مہر شوہر کے ذمے بیوی کا قرض ہے — اس کا حساب قرض ہی کے قواعد پر ہوگا: (الف) شوہر خوشحال ہو اور مطالبے پر ادا کر دے تو یہ 'قوی قرض' ہے: اگر آپ نصاب کی مالک ہیں تو ہر سال اسے اپنی زکوٰۃ کے حساب میں شامل کریں (یا وصولی کے بعد جمع شدہ برسوں کی زکوٰۃ اکٹھی ادا کر دیں)؛ (ب) عرفاً مؤجل مہر (جس کا طلاق یا وفات سے پہلے مطالبہ ہی نہیں ہوتا) یا شوہر تنگ دست ہو تو یہ 'ضعیف قرض' ہے: وصولی سے پہلے کوئی زکوٰۃ نہیں، پھر وصولی کے بعد نیا حول شروع ہوگا۔
تفصیل: مہر بیوی کی خالص ملکیت ہے — قرآن نے اسے مکمل طور پر اس کا حق قرار دیا ہے؛ شوہر یا خاندان میں سے کسی کو اس کی آزادانہ رضامندی کے بغیر اسے ہاتھ لگانے کا حق نہیں۔ مہر کو کاغذ پر 'وصول شدہ' لکھوا دینا مگر عملاً کبھی ادا نہ کرنا — یہ عام رواج اسے شوہر کے ذمے ایک حقیقی واجب الادا قرض بنا دیتا ہے، جسے موت سے پہلے ادا کرنا یا سچے دل سے معاف کروانا ضروری ہے۔ بیوی اپنی خوشی سے اس کا کچھ حصہ چھوڑ دے تو یہ درست ہے (آیت 4:4 کا آخری حصہ)؛ مگر دباؤ یا شرمندگی سے لی گئی معافی درست نہیں۔
دلائل: القرآن 4:4؛ صحیح بخاری 2387 (جو شخص لوگوں کا مال ادائیگی کی نیت سے لیتا ہے، اللہ اس کی طرف سے ادا فرما دیتا ہے)؛ قوی اور ضعیف قرض کی یہ تفریق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اثر (مؤطا) اور اللجنۃ الدائمۃ و شیخ ابن باز کے قرض سے متعلق فتاویٰ سے ماخوذ ہے۔
پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 4:4
Hadith
Sahih al-Bukhari 2387
Fiqh
Permanent Committee; Ibn Baz on debt zakat