Question
دوست راتوں رات منافع کے لالچ میں میم کوائن کے 'پمپ' کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ کیا اس طرح کی ٹریڈنگ جائز ہے؟ اور اس طرح رکھے گئے کوائنز پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: (1) جن ٹوکنز کی کوئی حقیقی افادیت یا منصوبہ نہیں — جن کی قیمت محض ہائپ اور 'کسی بڑے بے وقوف کی تلاش' پر چلتی ہے — ان میں جوے جیسا خطرہ اور حد سے بڑھا ہوا غرر پایا جاتا ہے، اس لیے ان کا معاملہ ناجائز ہونے کی طرف مائل ہے؛ دلیل پر چلنے والے علماء نے خالص سٹے بازی سے خبردار کیا ہے۔ اور جان بوجھ کر پمپ اینڈ ڈمپ اسکیمیں چلانا، جن کا نفع دوسروں کے نقصان سے حاصل ہوتا ہے، صریح حرام ہے۔ (2) اس کے باوجود جو شخص ایسے کوائنز کا مالک ہو وہ اس وقت تک مال کا مالک ہے جب تک ان کی بازاری قیمت موجود ہے — زکوٰۃ کے دن ان کی قیمت پر 2.5% زکوٰۃ ادا کی جائے گی؛ حکم کا مشتبہ ہونا کبھی زکوٰۃ ساقط نہیں کرتا۔
دلائل: قرآن 5:90 (جوا)؛ قرآن 2:188 (دوسروں کا مال ناحق کھانا)؛ صحیح مسلم 1513 (بیعِ غرر کی ممانعت)؛ صحیح مسلم 102 ('جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں')۔
اطلاق: سرمایہ کاری سے پہلے منصوبے کی حقیقی افادیت، ٹیم اور شفافیت کی جانچ کریں؛ راتوں رات امیر بننے والی اسکیموں سے بچیں۔ حرام طریقوں سے جو نفع پہلے کما لیا گیا ہو اس پر توبہ کریں اور نفع کا حصہ ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دیں — یہ زکوٰۃ نہیں ہے۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 5:90; 2:188
Hadith
Muslim 1513, 102
Fiqh
contemporary scholars on gharar/speculation