← Back to Fatwas
Debts & Loans Jul 13, 2026

میت کی ادا نہ کی گئی زکوٰۃ: ورثاء پر کیا لازم ہے

Question

ہمیں معلوم ہے کہ والد صاحب وفات سے پہلے کئی سال کی زکوٰۃ ادا نہیں کر سکے۔ کیا ہم ورثاء پر اس کی ادائیگی لازم ہے؟ اور کس مال سے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: جی ہاں — ادا نہ کی گئی زکوٰۃ میت کے ذمے قرض ہے، بلکہ سب سے بھاری قرض: تقسیم سے پہلے پورے ترکے سے اس کی ادائیگی ورثاء پر فرض ہے، وصیت ہو یا نہ ہو۔ ترتیب یہ ہے: کفن دفن کے اخراجات → قرض (اللہ کے حقوق: زکوٰۃ/کفارہ، اور بندوں کے حقوق) → وصیت (ایک تہائی کی حد میں) → میراث کی تقسیم۔ تفصیل: جہاں تک ممکن ہو کاغذات اور حساب کتاب سے سال اور رقمیں متعین کریں؛ جہاں معلوم نہ ہو وہاں احتیاطاً زیادہ کی طرف اندازہ لگائیں۔ اگر ترکہ قرضوں سے کم ہو تو جو موجود ہے اس سے تناسب کے ساتھ ادا کریں؛ ورثاء پر اپنے ذاتی مال سے دینا لازم نہیں، البتہ والد کی بریتِ ذمہ کے لیے اپنی خوشی سے ادا کر دینا اولاد کے بہترین صدقات میں سے ہے۔ زندوں کے لیے سبق: زکوٰۃ کا رجسٹر رکھیں اور واجب الادا حقوق اپنی وصیت میں لکھ جائیں — 'کسی مسلمان کے لیے، جس کے پاس وصیت کرنے کی کوئی چیز ہو، روا نہیں کہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو' (صحیح بخاری 2738)۔ دلائل: قرآن 4:11 ('وصیت اور قرض کی ادائیگی کے بعد')؛ صحیح بخاری 1953؛ صحیح بخاری 2738؛ شیخ ابن باز اور ابن عثیمین کے فتاویٰ کہ میت کی زکوٰۃ ترکے سے ادا کی جائے۔ پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Quran 4:11
Hadith Bukhari 1953, 2738
Fiqh Ibn Baz; al-Uthaymin on estate liabilities