Question
میں ثواب کی امید پر قرضِ حسنہ دیتا ہوں۔ یہ رقم تو میرے ہاتھ میں نہیں — کیا یہ میری زکوٰۃ کے حساب سے نکل جائے گی؟ اور کیا قرض دینے پر صدقے جیسا ثواب ملتا ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: (1) نہیں — خوش حال اور واپسی کے یقینی قرض دار کو دیا گیا قرض آپ ہی کا مال ہے (قوی دَین): وہ ہر سال آپ کی زکوٰۃ کے حساب میں شامل رہے گا؛ قرض دینا زکوٰۃ کم کرنے کا راستہ نہیں۔ اگر واپسی مشکوک (ضعیف دَین) ہو جائے تو پھر وہ حساب سے نکل جاتا ہے — اور وصولی کے بعد نیا حول شروع ہوگا۔ (2) ثواب: یقیناً — کسی حاجت مند کی تکلیف دور کرنا عظیم عمل ہے، اور مہلت دینا یا ادائیگی کے وقت معاف کر دینا اس سے بھی بڑھ کر ہے۔
تفصیل: قرضِ حسنہ صدقے کا بدل نہیں بلکہ اس کا تکملہ ہے — صدقے میں ملکیت ہی منتقل ہو جاتی ہے، جب کہ قرض واپس آتا ہے؛ اسی لیے قرضوں پر زکوٰۃ کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اسے 'اللہ کو قرضِ حسنہ دینا' فرمایا ہے جس کا اجر کئی گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے۔ عملی مشورہ: قرضوں کا رجسٹر رکھیے (تاریخیں، رقمیں، گواہ/تحریر — قرآن 2:282 کی رہنمائی)؛ زکوٰۃ کے دن وہی رجسٹر آپ کے قوی دُیون کی فہرست ہوگا۔
دلائل: قرآن 2:245 اور 57:11؛ صحیح مسلم 2699 ('جو شخص کسی مومن کی کوئی تکلیف دور کرے...')؛ قرآن 2:282؛ عثمان رضی اللہ عنہ کا اثر (مؤطا، زکوٰۃ)۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:245, 2:282; 57:11
Hadith
Sahih Muslim 2699
Fiqh
athar of Uthman; Permanent Committee