← Back to Fatwas
Pension & GPF Jul 13, 2026

کیا بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے زکوٰۃ معاف ہو جاتی ہے؟

Question

میرے بوڑھے والد اب کمانے کے قابل نہیں رہے، لیکن ان کے نام ایف ڈی آر اور زمین ہے۔ کیا عمر یا بیماری کی وجہ سے ان کی زکوٰۃ معاف ہے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: نہیں۔ زکوٰۃ مال پر فرض ہے، آدمی کی کمانے کی صلاحیت پر نہیں — مالک خواہ بوڑھا ہو، بیمار ہو، حتیٰ کہ نابالغ یا غیر عاقل ہی کیوں نہ ہو، جب مال نصاب اور حول مکمل کر لے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ عجز و معذوری کی رعایت حج جیسی بدنی عبادات میں ہے؛ زکوٰۃ مالی عبادت ہے، جس کا تعلق مال سے ہے۔ تفصیل: بلکہ غور کیجیے کہ فقراء اور معذور افراد خود زکوٰۃ کے مستحقین میں شامل ہیں: مال دار بوڑھا زکوٰۃ دیتا ہے اور کمائی سے محروم غریب بوڑھا زکوٰۃ لیتا ہے — معیار مال ہے، عمر نہیں۔ اولاد کو چاہیے کہ والد کے حساب اور ادائیگی میں ان کی مدد کریں؛ اگر وہ شرعاً فاقد الاہلیت ہوں (ڈیمنشیا وغیرہ) تو ولی/وکیل ان کے مال ہی سے زکوٰۃ ادا کرے — بالکل اسی طرح جیسے نابالغ کا ولی کرتا ہے۔ آئندہ علاج کے اخراجات کے اندیشے سے زکوٰۃ روک رکھنا کوئی معتبر عذر نہیں (دیکھیے: شادی/علاج فنڈ کا فتویٰ)۔ دلائل: القرآن 9:103 (فرضیت مال سے متعلق ہے)؛ صحیح بخاری 1395 («ان کے مال داروں سے لی جائے گی»)؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اثر (موطأ) اور جمہور کا اصول کہ عاجز کی طرف سے ولی ادا کرے۔ پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Quran 9:103
Hadith Bukhari 1395; athar of Umar
Fiqh majority: zakat attaches to wealth