← Back to Fatwas
Pension & GPF Jul 13, 2026

مرحوم کی پنشن/جی پی ایف اور ورثاء کی زکوٰۃ

Question

والد صاحب کے انتقال کے بعد ہم ورثاء کو ان کی پنشن/جی پی ایف کی رقم ملی ہے۔ ان کی ادا نہ کی گئی زکوٰۃ اور ہمارے اپنے حصوں کی زکوٰۃ کا حساب کیسے ہوگا؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: مرحلہ وار: (1) مرحوم کے ذمے جو زکوٰۃ یا قرض باقی ہو وہ تقسیم سے پہلے مجموعی ترکے سے ادا کیا جائے گا — اللہ کا قرض ادائیگی کا سب سے زیادہ حق دار ہے؛ (2) پھر وصیت (ایک تہائی کے اندر، غیر وارث کے لیے)؛ (3) باقی مال فرائض کے مطابق تقسیم ہوگا — ہر وارث کا حصہ اس کا نیا مال ہے: حول وصولی کے دن سے شروع ہوگا، اور نصاب کے ساتھ سال مکمل ہونے پر 2.5% زکوٰۃ واجب ہوگی۔ تفصیل: اگر جی پی ایف کی رقم والد کی زندگی میں ان کے ہاتھ نہیں آئی تھی تو اس پر کوئی پچھلی زکوٰۃ واجب نہیں ہوئی (ملکیت مکمل نہیں تھی)؛ لیکن جو نقدی/ایف ڈی آر ان کے قبضے میں تھے ان کی ادا نہ کی گئی زکوٰۃ ترکے پر قرض ہے۔ وفات کے بعد بیوہ/نامزد شخص کو ملنے والی ماہانہ 'فیملی پنشن' وصول کنندہ کی اپنی آمدنی ہے — جمع ہو تو اسی کے حساب میں اس کی زکوٰۃ ہوگی۔ اگر ترکہ دیر تک غیر منقسم پڑا رہے تو احتیاط اسی میں ہے کہ ہر وارث کا حول اس وقت سے شمار کیا جائے جب اس کا حصہ متعین اور قابلِ تصرف ہو گیا۔ دلائل: قرآن 4:11-12 ('وصیت اور قرض کی ادائیگی کے بعد')؛ صحیح بخاری 1953 ('اللہ کا قرض ادائیگی کا سب سے زیادہ حق دار ہے')؛ ابن ماجہ 1792 (نئی ملکیت، نیا حول)؛ ابن باز اور عثیمین — مرحوم کی زکوٰۃ ترکے سے ادا کرنے کے بارے میں۔ پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Quran 4:11-12
Hadith Bukhari 1953; Ibn Majah 1792
Fiqh Ibn Baz; al-Uthaymin on estate zakat