Question
میں کئی برسوں سے اپنے پلاٹ پر گھر بنانے کے لیے رقم جمع کر رہا ہوں، اور کچھ سریا اور اینٹیں بھی خرید رکھی ہیں۔ کیا ان پر زکوٰۃ واجب ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: (1) جمع شدہ رقم: ہاں — جب تک وہ ہاتھ میں یا بینک میں موجود ہے اور نصاب و حول مکمل کرتی ہے، اس پر زکوٰۃ فرض ہے؛ «یہ میرے گھر کے لیے ہے» کی نیت کوئی استثنا نہیں دیتی۔ (2) اپنے ذاتی گھر کے لیے خریدا گیا تعمیراتی سامان (سریا، اینٹ، سیمنٹ): استعمال کی اشیاء — ان پر زکوٰۃ نہیں۔ (3) ٹھیکیدار یا مستری کو ادا کی جا چکی رقم: خرچ ہو چکی — حساب سے باہر۔
تفصیل: اس اندیشے سے کہ ہر سال کی زکوٰۃ فنڈ کو گھٹا دے گی، بہت سے لوگ نقد رقم کو جلد زمین یا تعمیراتی سامان میں بدل لیتے ہیں — ذاتی ضرورت کے گھر کے لیے یہ ایک جائز تدبیر ہے (کیونکہ استعمال کی اشیاء پر زکوٰۃ نہیں)؛ لیکن یاد رہے کہ زکوٰۃ سے بچنے کی نیت سے کی گئی مصنوعی تبدیلی اور حقیقی ضرورت کی اصل پیش رفت ایک نہیں — اعتبار نیت ہی کا ہے۔ اور اگر محسوس ہو کہ زکوٰۃ دینے سے گھر کی تعمیر پیچھے جا رہی ہے تو یاد رکھیے: فرض کی ادائیگی برکت لاتی ہے — «صدقہ مال کو کم نہیں کرتا» (صحیح مسلم 2588)۔
دلائل: قرآن 9:103؛ ابن ماجہ 1792 (حول)؛ صحیح مسلم 2588؛ شیخ ابن باز اور دائمی فتویٰ کمیٹی (اللجنۃ الدائمۃ): تعمیر اور شادی کی بچت بمقابلہ ذاتی استعمال کی اشیاء۔
پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:103
Hadith
Ibn Majah 1792; Muslim 2588
Fiqh
Ibn Baz; Permanent Committee