← Back to Fatwas
Real Estate Jul 13, 2026

جائیداد کی فروخت سے حاصل رقم کی زکوٰۃ

Question

میں نے آبائی زمین بڑی رقم کے عوض بیچی ہے — کچھ رقم سے دوسرا فلیٹ خریدوں گا، باقی بینک میں پڑی ہے۔ اس رقم پر زکوٰۃ کب سے واجب ہوگی؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: چونکہ زمین مالِ تجارت نہ تھی (آبائی/ذاتی)، اس لیے اس کی قیمت کا حول بیع کے دن سے شروع ہوگا — جب یہ رقم آپ کے ہاتھ یا بینک میں ایک قمری سال مکمل کر لے تو زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اس سے پہلے جو رقم فلیٹ کی خریداری یا کسی اور خرچ میں چلی گئی، اس پر زکوٰۃ نہیں۔ اور اگر زمین پہلے ہی سے مالِ تجارت تھی (بیچنے کی نیت سے خریدی گئی) تو اس کا حول تو پہلے سے جاری تھا — قیمتِ فروخت اسی پرانے حول کے تسلسل میں شمار ہوگی۔ تفصیل: آسان طریقہ — اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب ہیں اور زکوٰۃ کا ایک مقررہ دن رکھتے ہیں تو قیمتِ فروخت بھی اسی دن اپنے کل مال کے ساتھ شمار کریں؛ کچھ زکوٰۃ قدرے پہلے ادا ہو جائے گی، جو جائز بھی ہے اور جھنجھٹ سے پاک بھی۔ بیعانہ کے معاہدے کے تحت قسط وار رقم ملے تو ہر وصولی اپنے وصول کے دن سے آپ کی نقدی ہے؛ رجسٹری سے پہلے قابلِ اعتماد خریدار کے ذمے جو رقم باقی ہے وہ مضبوط (قوی) قرض کی طرح شمار ہوگی۔ دلائل: القرآن 9:103؛ ابن ماجہ 1792 (حول کی شرط)؛ صحیح بخاری 1454؛ شیخ ابن عثیمین اور اللجنۃ الدائمہ — ذاتی املاک بمقابلہ مالِ تجارت کی قیمتِ فروخت کے حکم میں۔ پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Quran 9:103
Hadith Ibn Majah 1792; Bukhari 1454
Fiqh al-Uthaymin; Permanent Committee