Question
میں اپنی زندگی میں اولاد کے درمیان زمین اور فلیٹ تقسیم کرنا چاہتا ہوں۔ شریعت میں اس کے کیا احکام ہیں، اور ہبہ کے بعد زکوٰۃ کس کے ذمے ہوگی؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: (1) زندگی میں اولاد کو ہبہ کرنا جائز ہے — لیکن بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان انصاف (برابری) واجب ہے: نبی کریم ﷺ نے ایک اولاد کو خاص عطیہ دینے پر گواہ بننے سے انکار فرمایا اور اسے ظلم قرار دیا۔ (2) ہبہ قبضے کی منتقلی سے مکمل ہوتا ہے؛ اس کے بعد جائیداد اولاد کی ملکیت ہے — اگر اس کے ذاتی استعمال میں ہو تو زکوٰۃ نہیں، کرائے پر دی ہو تو کرائے کی آمدنی پر اس کی زکوٰۃ ہے، اور نابالغ کی طرف سے اس کا ولی خود نابالغ کے مال سے زکوٰۃ ادا کرے گا۔ (3) صرف کاغذی ہبہ جبکہ قبضہ اور فائدہ باپ ہی کے پاس رہے، سرے سے ہبہ ہی نہیں — مال باپ ہی کے حساب میں رہے گا، اور اگر مقصد وارثوں کو محروم کرنا ہو تو گناہ بھی ہے۔
تفصیل: انصاف کے معیار کے بارے میں: جمہور کے نزدیک بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر دینا ہی سنت کے مطابق محتاط راستہ ہے؛ بعض اہلِ علم نے میراث کے تناسب کا قول کیا ہے — برابری سب سے محفوظ ہے، اور کسی ضرورت مند اولاد (بیمار، تنگ دست) کو زیادہ دینا ہو تو بہتر ہے کہ دوسروں کی رضامندی سے ہو۔ مرضِ وفات کا 'ہبہ' درحقیقت وصیت کے حکم میں ہے — اور وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔ زکوٰۃ کے قابل نقدی/سونا ہبہ کیا جائے تو پانے والے کے ہاتھ میں نیا حول شروع ہوتا ہے۔
دلیل: صحیح بخاری 2587 اور صحیح مسلم 1623 (نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما)؛ قرآن 4:11؛ اور ملکیت و ذاتی استعمال کے مال کے اصول — صحیح بخاری 1464۔
پیچیدہ انفرادی صورتوں میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 4:11
Hadith
Bukhari 2587; Muslim 1623
Fiqh
majority on equality in gifts to children