Question
میں نے 10 لاکھ کے شیئرز خریدے تھے، اب اُن کی مالیت 6 لاکھ ہے۔ میں نقصان میں ہوں — کیا پھر بھی زکوٰۃ واجب ہے؟ اور کس چیز پر؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: جی ہاں — نقصان زکوٰۃ کو ساقط نہیں کرتا؛ لیکن حساب آج کی اصل بازار قیمت (6 لاکھ) پر ہوگا، خرید قیمت پر نہیں۔ آپ کے یومِ زکوٰۃ پر پورٹ فولیو کی جو مالیت بنے، بشرطیکہ آپ کا کل مال نصاب سے اوپر ہو، اُسی کا 2.5% ادا کریں۔
تفصیل: زکوٰۃ موجودہ مال پر عائد ہوتی ہے — گزشتہ قیمتوں یا فرضی نفع و نقصان پر نہیں۔ اگر خرید قیمت پر حساب لگایا جائے تو آپ سے ایسے مال کی زکوٰۃ لی جائے گی جو اب آپ کے پاس ہے ہی نہیں — یہ بوجھ شریعت نے کبھی نہیں ڈالا؛ اور اسی طرح جب قیمتیں بڑھ جائیں تو اضافے پر زکوٰۃ دیتے ہیں — انصاف دونوں طرف چلتا ہے۔ غیر حقیقی (unrealized) نقصان بیچنے سے پہلے پلٹ بھی سکتا ہے؛ ہر سال اُسی سال کے بھاؤ پر حساب ہوگا۔ اگر آپ بیچ کر نقصان کو حقیقی کر لیں، تو جو نقد ہاتھ آیا وہی حساب میں آئے گا۔
دلائل: قرآن 2:286؛ قرآن 9:103؛ صحیح بخاری 1454 (نقدی پر 2.5%)؛ اور تجارتی مال کی زکوٰۃ یومِ زکوٰۃ کے بازار بھاؤ پر لگانے کے بارے میں اللجنۃ الدائمہ اور شیخ ابن باز کا قول۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 2:286; 9:103
Hadith
Sahih al-Bukhari 1454
Fiqh
Permanent Committee; Ibn Baz on market valuation