← Back to Fatwas
Livestock & Agriculture
Jul 13, 2026
عُشر (10%) بمقابلہ نصف عُشر (5%): بارش بمقابلہ مصنوعی آبپاشی
Question
فصلوں پر کب 10% اور کب 5% واجب ہوتا ہے، اور اگر زمین بارش اور آبپاشی دونوں سے سیراب ہو تو کیا حکم ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: صحیح حدیث کی روشنی میں، جو فصلیں بارش یا قدرتی ذرائع سے سیراب ہوں اُن میں 10% (عُشر) واجب ہے، اور جو محنت و مشقت (مثلاً کنویں) سے سیراب ہوں اُن میں 5% (نصف عُشر) واجب ہے۔ جو زمین دونوں طریقوں سے سیراب ہو، اُس کا حکم غالب طریقے پر موقوف ہے؛ علماء کا اس میں اختلاف ہے، مگر راجح قول یہ ہے کہ شرح اُسی طریقے کے مطابق ہوگی جو آبپاشی میں غالب ہو۔
تفصیل: نبی ﷺ نے آبپاشی کی محنت کی بنیاد پر دونوں شرحوں میں واضح فرق فرمایا۔ تمام فصلوں کا نصاب پانچ وسق (تقریباً 653 کلوگرام) ہے۔ یہ احکام صرف اُن بنیادی غذائی فصلوں پر لاگو ہوتے ہیں جو ذخیرہ کی جا سکتی ہیں۔
دلائل:
1. صحیح بخاری 1483: نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو زمین بارش کے پانی یا قدرتی نالوں سے سیراب ہو، اُس میں عُشر (10%) واجب ہے؛ اور جو زمین کنویں سے سیراب ہو، اُس میں نصف عُشر (5%) واجب ہے۔“
2. صحیح مسلم 981: نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو (فصل) دریاؤں یا بارش سے سیراب ہو اُس میں دسواں حصہ (عُشر) ہے، اور جو اونٹوں (یعنی مصنوعی آبپاشی) سے سیراب ہو اُس میں بیسواں حصہ ہے۔“
مخلوط آبپاشی کے بارے میں، لجنہ دائمہ، ابن باز اور العثیمین جیسے علماء کا موقف ہے کہ اگر بارش سے زیادہ تر پانی حاصل ہو تو 10% واجب ہے؛ اگر مصنوعی آبپاشی غالب ہو تو 5% واجب ہے؛ اور اگر دونوں برابر ہوں تو بعض علماء احتیاطاً 7.5% یا زیادہ شرح (10%) ادا کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔ چونکہ مخلوط صورت کے بارے میں کوئی صریح نص موجود نہیں، اِس لیے کسی معتبر عالم کے قول کی پیروی کی جا سکتی ہے۔
انتباہ: یہ فتویٰ مذکورہ دلائل پر مبنی ہے۔ پیچیدہ صورتوں (مثلاً جدید آبپاشی کے نظام یا غیر واضح تناسب) میں براہِ کرم مستند عالم سے رجوع فرمائیں تاکہ باخبر حکم مل سکے۔
References
Hadith
Sahih al-Bukhari 1483; Sahih Muslim 981
Fiqh
Permanent Committee for Islamic Research and Ifta; Ibn Baz; al-Uthaymin