Question
میں کنسائنمنٹ پر مال بیچتا ہوں جو میری ملکیت نہیں — زکوٰۃ مجھ پر ہے یا مالک پر؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: کنسائنمنٹ کے مال کی زکوٰۃ مالک (کنسائنر) پر واجب ہے، نہ کہ اُس دکاندار پر جو صرف اسے فروخت کے لیے اپنے پاس رکھتا ہے۔ دکاندار صرف اپنے سرمائے اور اپنے مال کے منافع پر زکوٰۃ دے گا۔
تفصیل: زکوٰۃ کی فرضیت مال کی ملکیت سے وابستہ ہے۔ قرآن اور صحیح حدیث کے دلائل سے ثابت ہے کہ زکوٰۃ مال کے مالک پر ایک حق ہے۔ کنسائنمنٹ کے معاہدوں میں دکاندار مال کا مالک نہیں ہوتا؛ وہ صرف اُسے بیچنے کا امانت دار وکیل ہوتا ہے۔ لہٰذا زکوٰۃ کی ذمہ داری مال کے مالک پر ہے، بشرطیکہ مال نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے۔ دکاندار اپنی زکوٰۃ کے حساب میں کنسائنمنٹ کی قیمت شامل نہ کرے۔ اگر دکاندار کے پاس اپنا مال بھی کنسائنمنٹ کے مال کے ساتھ ملا ہوا ہو، تو اسے اپنی ملکیت الگ کر کے اس پر علیحدہ زکوٰۃ دینی ہوگی۔
دلائل:
1. صحیح بخاری 1454 (P1) سے ظاہر ہوتا ہے کہ زکوٰۃ ہر مسلمان کے مال پر فرض ہے، جو ملکیت کو بنیاد قرار دیتا ہے۔
2. صحیح بخاری 1451 (P2) بتاتا ہے کہ مشترکہ مال میں مالکان مل کر زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ زکوٰۃ ملکیت کے تابع ہے۔
3. صحیح بخاری 1450 (P11) زکوٰۃ سے بچنے یا اسے کم کرنے کے لیے مال کو تقسیم یا یکجا کرنے سے منع کرتا ہے، جو ملکیت کی حدود کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
نوٹ: پیش کردہ دلائل میں کنسائنمنٹ کا براہِ راست ذکر نہیں، اس لیے یہ حکم زکوٰۃ میں ملکیت کے عمومی اصولوں سے اخذ کیا گیا ہے۔ مخلوط اثاثوں یا غیر واضح ملکیت پر مشتمل پیچیدہ معاملات کے لیے کسی صاحبِ علم عالم سے رجوع کریں۔
References
Hadith
Sahih al-Bukhari 1454; Sahih al-Bukhari 1451; Sahih al-Bukhari 1450
Fiqh
Ibn Baz; al-Uthaymin; Permanent Committee for Scholarly Research and Ifta'