← Back to Fatwas
Business & Trade Jul 13, 2026

زکوٰۃ اور کاروباری مستقل اثاثے (دکان، مشینری، گاڑیاں)

Question

کیا میری دکان، مشینری، ڈیلیوری وین اور فرنیچر پر زکوٰۃ واجب ہے جو کاروبار چلانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: نہیں، کاروباری مستقل اثاثے جیسے دکان، مشینری، ڈیلیوری وین اور فرنیچر جو کاروبار چلانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، ان پر زکوٰۃ واجب نہیں، کیونکہ یہ بذاتِ خود زکوٰۃ کے قابل مال میں شمار نہیں ہوتے۔ زکوٰۃ صرف اُن مخصوص اقسامِ مال پر فرض ہے جن کا ذکر قرآن اور صحیح احادیث میں صراحتاً آیا ہے، جیسے سونا، چاندی، مویشی، زرعی پیداوار اور مالِ تجارت (فروخت کے لیے رکھا ہوا سامان)۔ وہ مستقل اثاثے جو آمدنی کمانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں (مثلاً عمارتیں، آلات، گاڑیاں) اُن پر زکوٰۃ واجب نہیں، الّا یہ کہ وہ خود مالِ تجارت ہوں۔ تفصیل: احادیثِ نبویہ کے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ مال کی مخصوص اقسام پر عائد ہوتی ہے: اونٹ (صحیح بخاری 1454، صحیح مسلم 988a)، سونا اور چاندی (صحیح مسلم 987a)، اور زرعی پیداوار (صحیح بخاری 1405)۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ کی وصولی کے بارے میں جو ہدایات دیں اُن میں صرف مویشی اور فصلوں کا ذکر ہے، مستقل اثاثوں کا نہیں (صحیح بخاری 1454، 1450، 1448)۔ مالِ تجارت (عروضِ تجارت) پر زکوٰۃ کی واضح دلیل معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت (صحیح بخاری 1448) اور امام زہری رحمہ اللہ کے قول (صحیح بخاری 1511) میں ملتی ہے۔ تاہم یہ نصوص آلات یا مستقل اثاثوں کو زکوٰۃ کے قابل قرار نہیں دیتیں۔ چنانچہ اِس اصول کی بنیاد پر کہ زکوٰۃ صرف بڑھنے والے یا تجارت کے قابل مال پر واجب ہے، اہلِ حدیث علماء (بشمول ابن باز، ابن عثیمین، اور مستقل کمیٹی) اِس بات کے قائل ہیں کہ کاروباری مستقل اثاثوں پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ دلائل: 1. صحیح بخاری 1454 — نبی ﷺ سے منقول زکوٰۃ کی فہرست میں صرف اونٹ، گائے، بکری اور فصلوں کا ذکر ہے؛ مستقل اثاثوں کا کوئی ذکر نہیں۔ 2. صحیح بخاری 1405 — ’’پانچ اوقیہ چاندی سے کم پر زکوٰۃ نہیں، پانچ اونٹوں سے کم پر زکوٰۃ نہیں، اور پانچ وسق سے کم پیداوار پر زکوٰۃ نہیں۔‘‘ یہ زکوٰۃ کو مخصوص اشیاء تک محدود کرتی ہے۔ 3. صحیح مسلم 987a — سونے اور چاندی پر زکوٰۃ کی تاکید ہے، آلات پر نہیں۔ 4. صحیح بخاری 1448 — معاذ رضی اللہ عنہ کپڑے (مالِ تجارت) بطورِ زکوٰۃ قبول کرتے ہیں، جو مالِ تجارت پر زکوٰۃ کی دلیل ہے۔ 5. صحیح بخاری 1511 — امام زہری تجارت کے لیے خریدے گئے غلاموں پر زکوٰۃ کا ذکر کرتے ہیں، جو اِس اصول کی تائید کرتا ہے کہ زکوٰۃ مالِ تجارت پر ہے، مستقل اثاثوں پر نہیں۔ خلاصہ: پیش کردہ صحیح دلائل کی بنیاد پر، کاروباری مستقل اثاثوں پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ صرف مالِ تجارت (فروخت کا سامان) اور نقد اثاثے (نقدی، سونا، چاندی) زکوٰۃ کے تابع ہیں بشرطیکہ وہ نصاب اور حول (سال) کی شرائط پوری کریں۔ مخلوط اثاثوں پر مشتمل پیچیدہ حالات میں کسی صاحبِ علم عالم سے مشورہ کرنا مستحسن ہے۔

References

Hadith Sahih al-Bukhari 1454; Sahih al-Bukhari 1405; Sahih Muslim 987a; Sahih al-Bukhari 1511; Sahih al-Bukhari 1448
Fiqh Ibn Baz, al-Uthaymin, Permanent Committee (Al-Lajnah ad-Daimah)