← Back to Fatwas
Business & Trade Jul 13, 2026

کاروباری سرمائے کی زکوٰۃ جو ابھی تجارت میں نہیں لگا

Question

میں نے ایک کاروبار کے لیے سرمایہ جمع کیا ہے جس نے ابھی تجارت شروع نہیں کی — کیا اِس بے کار پڑے سرمائے پر زکوٰۃ واجب ہے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: ہاں، بے کار پڑے کاروباری سرمائے پر زکوٰۃ واجب ہے اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے اور اُس پر پورا ایک قمری سال (حول) گزر جائے، خواہ کاروبار نے ابھی تجارت شروع نہ کی ہو۔ یہ سرمایہ تجارت کی نیّت سے ملکیت میں لیا گیا مال (عروضِ تجارت) شمار ہوتا ہے، اور زکوٰۃ کا عمومی وجوب ہر اُس مال پر لاگو ہوتا ہے جس میں شرائط پائی جائیں۔ تفصیل: مال میں زکوٰۃ کا وجوب قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ مذکورہ احادیث اِس عمومی فریضے کی تصدیق کرتی ہیں: صحیح بخاری 1468 (P1) میں نبی ﷺ کا زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم منقول ہے، اور صحیح مسلم 987a (P12) میں زکوٰۃ روکنے والوں کے لیے عذاب کی وعید ہے۔ چاندی کا نصاب پانچ اوقیہ (تقریباً 595 گرام) ہے، اور سونے کا نصاب بھی اِسی طرح ہے؛ صحیح بخاری 1454 (P3) اور 1459 (P10) میں ہے کہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی اور پانچ وسق سے کم کھجور پر کوئی زکوٰۃ نہیں، جس سے نصاب کا اصول قائم ہوتا ہے۔ تجارت کے لیے مخصوص نقد سرمائے پر بھی یہی احکام لاگو ہوتے ہیں: جب وہ نصاب کو پہنچ جائے اور اُس پر پورا سال گزر جائے تو 2.5% کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے۔ کاروبار کا ابھی تجارت شروع نہ کرنا سرمائے کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ نہیں کرتا؛ یہ مالک کے قبضے اور ملکیت میں موجود مال ہی ہے اور زکوٰۃ کے تابع ہے۔ دلائل: 1. صحیح بخاری 1468 (P1) – نبی ﷺ نے زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا، جو مال میں اُس کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ 2. صحیح بخاری 1454 (P3) – نصاب مقرر ہے: پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر زکوٰۃ نہیں۔ 3. صحیح بخاری 1459 (P10) – چاندی، کھجور اور اونٹوں کے نصاب کی تصدیق کرتی ہے۔ 4. صحیح مسلم 987a (P12) – سونے اور چاندی کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے لیے سخت وعید۔ [تنبیہ: یہ دستیاب دلائل کی بنیاد پر ایک عمومی حکم ہے۔ مخلوط اثاثوں یا کاروباری ڈھانچوں پر مشتمل پیچیدہ صورتوں کے لیے براہِ کرم کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔]

References

Hadith Sahih al-Bukhari 1468; Sahih al-Bukhari 1405; Sahih al-Bukhari 1459; Sahih Muslim 987a
Fiqh General principles from Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim; consensus of scholars (see e.g. Ibn Baz, al-Uthaymin).