Question
میں اپنی دکان کے سامان کی زکوٰۃ کے لیے قیمت کیسے لگاؤں — لاگت کی قیمت پر یا فروخت کی قیمت پر، اپنی زکوٰۃ کی تاریخ پر؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: آپ کے مالِ تجارت کی قیمت آپ کی زکوٰۃ کی تاریخ پر موجودہ بازاری فروخت قیمت (selling price) کے مطابق لگانی چاہیے۔ اس لیے کہ زکوٰۃ مال پر اس کی موجودہ صورت میں واجب ہوتی ہے، اور صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کا رائج عمل یہ تھا کہ تجارتی سامان کی قیمت بازار کے نرخوں پر لگائی جائے۔ سنت کے دلائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ زکوٰۃ سامان کی قیمت پر لاگو ہوتی ہے، اس کی اصل لاگت پر نہیں۔
دلائل:
1۔ صحیح بخاری 1507 اور 1511 (P7، P11) سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی (ﷺ) نے تجارتی سامان پر زکوٰۃ مقرر فرمائی (جیسا کہ امام زہری رحمہ اللہ کی تشریح میں P7 میں ہے: «جو غلام تجارت کے لیے خریدے جائیں ان پر مالِ تجارت کی طرح زکوٰۃ واجب ہے»)۔ یہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مالِ تجارت اپنی موجودہ قیمت کی بنیاد پر زکوٰۃ کے تابع ہے۔
2۔ صحیح بخاری 1448 (P10) میں مروی ہے کہ معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ) نے یمن میں کپڑے (جو ایک تجارتی چیز ہے) بطورِ زکوٰۃ لیے اور انہیں اناج کے بجائے بازاری قیمت پر لگایا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ زکوٰۃ کے لیے قیمت لگانا موجودہ بازاری مالیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، لاگت پر نہیں۔
اہلِ حدیث علماء کا دلیل کے اعتبار سے راجح موقف یہ ہے کہ سامان کی قیمت فروخت قیمت (یعنی وہ قیمت جس پر آپ اپنی دکان میں سامان فروخت کریں گے) پر لگائی جائے، جس وقت زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ اس لیے کہ زکوٰۃ مال پر اس کی موجودہ حالت میں ایک حق ہے، اور بازاری قیمت اس کی قابلِ حصول مالیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر لاگت کی قیمت نمایاں طور پر مختلف ہو تو فروخت قیمت ہی درست بنیاد ہے۔
متبادل رائے: بعض علماء لاگت کی قیمت پر قیمت لگانے کی اجازت دیتے ہیں اگر سامان آسانی سے قابلِ فروخت نہ ہو یا مشقت سے بچنے کے لیے، لیکن قوی تر رائے بازاری فروخت قیمت ہی ہے۔ پیچیدہ معاملات میں (مثلاً جلد خراب ہونے والی اشیاء، یا گرتی ہوئی مارکیٹ) کسی باعلم عالم سے مشورہ کریں۔
References
Hadith
Sahih al-Bukhari 1511; Sahih al-Bukhari 1448
Fiqh
Ibn Baz; al-Uthaymin; Permanent Committee