Question
کیا گھر میں رکھی ہوئی نقد رقم پر زکوٰۃ واجب ہے؟ اور رقم جمع کر کے رکھنے پر کوئی وعید ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: جی ہاں، گھر میں رکھی نقد رقم پر زکوٰۃ واجب ہے اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے۔ زکوٰۃ ادا کیے بغیر رقم جمع کر کے رکھنے پر عذاب کی سخت وعید ہے۔
تفصیل:
نقد رقم (سونا اور چاندی) پر صحیح احادیث کی رو سے زکوٰۃ فرض ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «جو بھی سونے یا چاندی کا مالک اس کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی...» (صحیح مسلم 987a)۔ اس میں گھر میں رکھی نقد رقم بھی شامل ہے، کیونکہ نقدی سونے چاندی کی کرنسی کے قائم مقام ہے۔ چاندی کا نصاب پانچ اوقیہ (تقریباً 595 گرام چاندی) یا اس کے برابر نقدی ہے، اور سونے کا نصاب بیس مثقال (تقریباً 85 گرام سونا) ہے۔ جب رقم اس قیمت کو پہنچ جائے اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے تو 2.5% زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔
زکوٰۃ ادا کیے بغیر مال جمع کرنا مذموم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خبردار کیا کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (یعنی زکوٰۃ نہیں دیتے)، انہیں قیامت کے دن گرم تختیوں سے عذاب دیا جائے گا (صحیح بخاری 1402، صحیح مسلم 992a)۔ یہ حکم اس صورت میں بھی لاگو ہے جب رقم گھر میں رکھی ہو — گھر زکوٰۃ کی فرضیت سے پناہ گاہ نہیں۔
دلائل:
1. صحیح مسلم 987a — سونے چاندی کی زکوٰۃ نہ دینے پر سخت عذاب۔
2. صحیح بخاری 1402 — زکوٰۃ دیے بغیر سونا چاندی جمع کرنا عذاب کا سبب ہے۔
3. صحیح بخاری 1405 — پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر زکوٰۃ نہیں (نصاب)۔
4. صحیح بخاری 1454 — چاندی اور سونے کی زکوٰۃ کے تفصیلی احکام۔
5. صحیح مسلم 992a — مال جمع کرنے اور زکوٰۃ نہ دینے والوں کے لیے وعید۔
6. صحیح بخاری 1468 — زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار ایک سنگین معاملہ ہے۔
پیچیدہ مسائل میں، جیسے مخلوط اثاثوں یا قرض کے ساتھ نصاب کا حساب، کسی صاحبِ علم عالم سے رجوع کریں۔
References
Hadith
Sahih Muslim 987a; Sahih al-Bukhari 1402; Sahih al-Bukhari 1405; Sahih al-Bukhari 1454; Sahih Muslim 992a; Sahih al-Bukhari 1468
Fiqh
Major Salafi scholars (Ibn Baz, al-Uthaymin, Permanent Committee)