Question
میں خالص ہنگامی حالات کے لیے ایک فنڈ الگ رکھتا ہوں — کیا پھر بھی اس پر زکوٰۃ واجب ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: جی ہاں، ہنگامی یا مشکل وقت کے فنڈ پر زکوٰۃ واجب ہے اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے اور ایک قمری سال (حول) تک آپ کی ملکیت میں رہے۔
تفصیل: زکوٰۃ مال پر ایک فرض عبادت ہے، اور جس مقصد کے لیے مال مختص کیا جائے اس سے اس کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی۔ نبی ﷺ نے ہر قسم کے اس مال سے زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا جو نصاب کو پہنچے، جیسا کہ عام احکام میں آیا ہے (صحیح بخاری 1454، صحیح مسلم 987a)۔ استثناء صرف اسی صورت میں ہے جب مال نصاب سے کم ہو (چاندی کے پانچ اوقیہ یا اس کے برابر، صحیح بخاری 1405 کے مطابق) یا اس پر پورا قمری سال نہ گزرا ہو۔ ہنگامی حالات کے لیے الگ رکھا ہوا فنڈ بھی آپ کی بچت کا حصہ ہے، اس لیے اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ زکوٰۃ روکنے پر عذاب کی وعید، جیسا کہ صحیح مسلم 987a اور 988a میں مروی ہے، ہر اس مال پر لاگو ہوتی ہے جس پر زکوٰۃ واجب ہو، خواہ اس کا مقصد کچھ بھی ہو۔ قرآن یا صحیح حدیث میں ایسی کوئی دلیل نہیں کہ مال کو ہنگامی حالات کے لیے مختص کرنے سے اس کی زکوٰۃ کا حکم بدل جاتا ہے۔
دلائل:
1. صحیح بخاری 1405: نبی ﷺ نے نصاب کی حد مقرر فرمائی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے زائد ہر مقدار پر زکوٰۃ واجب ہے۔
2. صحیح مسلم 987a: نبی ﷺ نے ان لوگوں کو سخت عذاب سے ڈرایا جو اپنے سونے اور چاندی کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔
3. صحیح مسلم 988a: نبی ﷺ نے اونٹوں کے ان مالکوں کو عذاب سے ڈرایا جو ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، جو ہر قسم کے مال پر زکوٰۃ کی فرضیت کو ظاہر کرتا ہے۔
4. صحیح بخاری 1454: نبی ﷺ نے تمام مسلمانوں کے اس مال پر زکوٰۃ کا حکم دیا جو نصاب کو پہنچے۔
اختتامی تنبیہ: یہ فتویٰ صرف پیش کردہ دلائل پر مبنی ہے۔ قرض یا دیگر استثناءات پر مشتمل پیچیدہ مسائل کے لیے کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Hadith
Sahih al-Bukhari 1468; Sahih Muslim 987a; Sahih Muslim 988a; Sahih al-Bukhari 1405
Fiqh
Sahih al-Bukhari 1405, 1454; Sahih Muslim 987a, 988a