Question
میرے پاس امریکی ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسی ہے — کس شرح سے اور کیسے زکوٰۃ ادا کروں؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: غیر ملکی کرنسی نقد مال کے حکم میں ہے جس پر زکوٰۃ فرض ہے۔ اگر اس کی مجموعی قیمت نصاب (85 گرام سونے یا 595 گرام چاندی کے برابر) کو پہنچ جائے اور ایک مکمل قمری سال آپ کے پاس رہے، تو آپ پر اس کی قیمت کا 2.5% ادا کرنا واجب ہے۔ آپ زکوٰۃ اسی کرنسی میں یا مقامی کرنسی میں اس کے مساوی قیمت دے کر ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ قیمت ادا کرنا جائز ہے۔
تفصیل: غیر ملکی کرنسی، سونے اور چاندی کی طرح، تبادلے کا ذریعہ اور قدر کو محفوظ رکھنے کا وسیلہ ہے، اس لیے یہ مال پر زکوٰۃ کے عمومی وجوب میں شامل ہے۔ قرآن اور صحیح احادیث نے ہر اس مال پر زکوٰۃ ثابت کی ہے جو بڑھ سکتا ہو یا جس کی تجارت کی جا سکتی ہو۔ نصاب سونے یا چاندی پر مبنی ہے کیونکہ نبوی احکام میں یہی دو معیار استعمال ہوئے ہیں۔ اگر آپ کی غیر ملکی کرنسی کی مقدار گھٹتی بڑھتی رہتی ہے، تو آپ قمری سال کے آخر میں اس کی قیمت لگائیں اور پوری رقم پر بازاری قیمت کا 2.5% ادا کریں، بشرطیکہ وہ نصاب سے زیادہ ہو۔
دلائل:
1. صحیح بخاری 1454 (P3) سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے ہر مسلمان پر زکوٰۃ فرض کی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نصاب سے زیادہ ہر مال پر زکوٰۃ واجب ہے۔
2. صحیح بخاری 1448 (P6) سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ مساوی قیمت کے سامان (اناج کے بدلے کپڑا) سے بھی ادا کی جا سکتی ہے، جو نقد قیمت ادا کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔
3. صحیح بخاری 1466 (P7) میں ہے کہ نبی ﷺ نے عورتوں کو ان کے زیورات سے صدقہ دینے کا حکم دیا، جو غیر نقدی مگر قیمتی ہیں، اور یہ قیاساً نقد جمع پونجی پر زکوٰۃ کی تائید کرتا ہے۔
4. سورۃ الروم 30:39 (P12) زکوٰۃ کی اہمیت بیان کرتی ہے اور اسے اللہ کی رضا کے حصول اور حقیقی برکت سے جوڑتی ہے۔
تنبیہ: یہ فراہم کردہ نصوص کی بنیاد پر ایک عمومی فتویٰ ہے۔ پیچیدہ ذاتی صورتوں (مثلاً متعدد کرنسیوں کا پورٹ فولیو، قرض، یا غیر معمولی نصاب کے حساب) میں کسی صاحبِ علم عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Surah Ar-Rum 30:39
Hadith
Sahih al-Bukhari 1454; Sahih al-Bukhari 1448; Sahih al-Bukhari 1466
Fiqh
Ibn Baz; al-Uthaymin; Permanent Committee