Question
تحفے، عیدی یا کسی جائز انعام کے طور پر ملنے والی رقم میری بچت میں جمع ہوتی رہتی ہے — اس کی زکوٰۃ کیسے شمار کی جائے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: تحفے، عیدی اور انعامی رقم آپ کے مال کا حصہ ہیں۔ جب یہ دیگر بچت کے ساتھ مل کر نصاب (کم از کم حد) کو پہنچ جائیں اور ان پر پورا قمری سال (حول) گزر جائے تو ان پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔
تفصیل: زکوٰۃ کا عمومی وجوب ہر اس مال پر لاگو ہوتا ہے جس میں نصاب اور حول کی شرطیں پوری ہوں۔ تحفے، عیدی یا جائز انعام کے طور پر ملنے والی رقم آپ کی ملکیت بن جاتی ہے اور کسی بھی دوسری نقدی بچت کی طرح انہی زکوٰۃ کے احکام کے تابع ہوتی ہے۔ آپ کو ہر قمری سال کے اختتام پر اپنی کل بچت کا حساب لگانا چاہیے؛ اگر مجموعہ 85 گرام سونے (یا اس کے مساوی چاندی/کرنسی) کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو 2.5% زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ جس دن آپ کو تحفہ/انعام ملے، اگر وہ آپ کی بچت کا حصہ بن جائے تو اسی دن سے اس کا اپنا حول شروع ہو جاتا ہے، تاہم آسان یہ ہے کہ اپنے تمام مال کے لیے زکوٰۃ کی ایک مشترکہ سالانہ تاریخ مقرر کر لی جائے۔
دلائل:
1. صحیح بخاری 1404 (ابن عمر) سے معلوم ہوتا ہے کہ سونا چاندی جمع کر کے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرنا مذموم ہے، جو نقدی بچت پر زکوٰۃ کے وجوب کو ظاہر کرتا ہے۔
2. صحیح بخاری 1454 (انس) سونے چاندی کا نصاب تفصیل سے بیان کرتی ہے اور حد مقرر کرتی ہے۔
3. صحیح بخاری 1403 اور 1408 مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر سخت عذاب سے خبردار کرتی ہیں۔
4. صحیح مسلم 988a اور 983 اس بات پر زور دیتی ہیں کہ زکوٰۃ مال کے مالکوں (اونٹ وغیرہ) پر واجب ہے، جو قیاساً لاگو ہوتی ہے۔
تنبیہ: یہ فتویٰ فراہم کردہ دلائل پر مبنی ہے۔ آمدنی کے متعدد ذرائع یا بے قاعدہ تحائف پر مشتمل پیچیدہ صورتوں میں کسی صاحبِ علم عالم سے رجوع کریں۔
References
Hadith
Sahih al-Bukhari 1404; Sahih al-Bukhari 1454; Sahih al-Bukhari 1403; Sahih al-Bukhari 1408; Sahih Muslim 988a; Sahih Muslim 983
Fiqh
Based on general evidences from Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim; Ibn Baz, al-Uthaymin, Permanent Committee