← Back to Fatwas
Gold, Silver & Jewelry Jul 13, 2026

ہیرے، موتی اور قیمتی پتھروں کی زکوٰۃ

Question

کیا میرے زیورات میں جڑے ہیرے، موتی، یاقوت اور دیگر قیمتی پتھروں پر زکوٰۃ فرض ہے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: ہیرے، موتی، یاقوت یا دیگر قیمتی پتھروں پر بذاتِ خود زکوٰۃ فرض نہیں، خواہ وہ زیورات میں جڑے ہوں یا نہ ہوں۔ زکوٰۃ صرف سونے اور چاندی پر فرض ہے (بشمول اُن کے زیورات) اگر وہ نصاب کو پہنچ جائیں، جیسا کہ صحیح احادیث میں صراحت کے ساتھ آیا ہے۔ قیمتی پتھر نہ سونا ہیں نہ چاندی، اور قرآن یا صحیح سنت میں اُن کے لیے کوئی نصاب یا شرحِ زکوٰۃ مقرر نہیں۔ تفصیل: دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ خاص طور پر سونے اور چاندی کے لیے حکم دی گئی ہے (صحیح مسلم 987a میں اُن لوگوں کے لیے عذاب کی وعید ہے جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اُس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے)۔ چاندی کا نصاب پانچ اوقیہ ہے (صحیح بخاری 1405)۔ نبی ﷺ نے عورتوں کو اپنے زیورات سے بھی صدقہ کرنے کی ترغیب دی (صحیح بخاری 1466)، لیکن یہ صدقے کی عمومی ترغیب ہے، خود زیورات پر زکوٰۃ کی فرضیت نہیں۔ کسی صحیح حدیث میں جواہر، موتی یا قیمتی پتھروں پر زکوٰۃ کے وجوب کا ذکر نہیں۔ لہٰذا اگر آپ کے زیورات میں سونا یا چاندی ہو تو آپ کو اُس دھات کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی (اگر وہ نصاب کو پہنچے اور اُس پر ایک قمری سال گزر جائے)، لیکن اُس میں جڑے قیمتی پتھروں کی قیمت مستثنیٰ ہے۔ اگر زیور مکمل طور پر سونے چاندی کے علاوہ کسی اور مادّے سے بنا ہو (مثلاً سارا قیمتی پتھر اور معمولی دھات)، تو اُس پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ دلائل: 1. صحیح بخاری 1466: نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے عورتو! صدقہ کرو، خواہ اپنے زیورات ہی سے۔“ یہ نفلی صدقے کی ترغیب دیتا ہے، خود زیورات پر زکوٰۃ فرض نہیں کرتا۔ 2. صحیح بخاری 1405: ”پانچ اوقیہ (چاندی) سے کم پر کوئی زکوٰۃ نہیں“ – یہ ظاہر کرتا ہے کہ زکوٰۃ چاندی (اور قیاساً سونے) سے وابستہ ہے، ہر قیمتی چیز سے نہیں۔ 3. صحیح مسلم 987a: ”جو بھی سونے یا چاندی کا مالک اُس کا حق ادا نہیں کرتا...“ – زکوٰۃ خاص طور پر سونے اور چاندی پر ہے، دیگر معدنیات پر نہیں۔ یہی اہلِ حدیث کے جمہور علماء کا مؤقف ہے، جن میں ابن باز اور العثیمین شامل ہیں۔ بعض علماء (مثلاً احناف) قیمتی پتھروں کو مالِ تجارت شمار کرتے ہیں جن پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے اگر وہ بیع کے لیے خریدے جائیں، لیکن اِس کی تائید صریح نصوص سے نہیں ہوتی۔ ہم مشورہ دیتے ہیں کہ اگر آپ کا معاملہ تجارت یا سرمایہ کاری کے لیے رکھے گئے قیمتی پتھروں سے متعلق ہو تو کسی ماہر عالم سے رجوع کریں۔

References

Hadith Sahih al-Bukhari 1466; Sahih al-Bukhari 1405; Sahih Muslim 987a
Fiqh Ibn Baz; al-Uthaymin; Permanent Committee for Islamic Research and Ifta