← Back to Fatwas
Gold, Silver & Jewelry Jul 13, 2026

مردوں کے لیے سونا اور حرام سونے کی اشیاء کی زکوٰۃ

Question

مردوں کے لیے سونا پہننا حرام ہے — اگر کسی مرد کے پاس سونے کی گھڑی یا زنجیر ہو تو اس کا کیا حکم ہے اور کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: مردوں کے لیے سونا پہننے کی حرمت دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے (جو یہاں فراہم نہیں کی گئیں)۔ تاہم فراہم کردہ دلائل کی بنیاد پر، مرد کی ملکیت میں موجود سونے پر زکوٰۃ واجب ہے اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے اور کسی جائز ذاتی استعمال کے لیے نہ ہو۔ چونکہ مردوں کے لیے سونا پہننا حرام ہے، اس لیے کسی مرد کی ملکیت میں سونے کی گھڑی یا زنجیر کو ایسا مال شمار کیا جائے گا جس پر زکوٰۃ واجب ہے، بشرطیکہ وہ نصاب (85 گرام یا 20 مثقال سونا) کو پہنچے اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے۔ اسی پر زکوٰۃ کی وہی شرح یعنی 2.5% لاگو ہوگی۔ دلائل: 1. صحیح مسلم 987a اور سورۃ التوبہ 9:34-35: ان میں اُن لوگوں کے لیے سخت عذاب کی وعید ہے جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اُس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔ یہ وجوب سونے اور چاندی کے تمام مال کو شامل ہے، اور حرام صورتوں کو بھی اس سے مستثنیٰ نہیں کیا گیا۔ 2. صحیح بخاری 1404 اور 1405: ان میں سونے اور چاندی کا نصاب مقرر کیا گیا ہے (چاندی کے لیے پانچ اوقیہ؛ اور سونے کے لیے اسی کے مماثل)۔ 3. صحیح بخاری 1454: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زکوٰۃ وصول کرنے کے احکام اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سونا اور چاندی زکوٰۃ والے اموال ہیں۔ 4. صحیح بخاری 1448 اور 1447: ان میں نصاب کی حدود اور یہ عمومی اصول دوبارہ بیان کیا گیا ہے کہ مقررہ کم از کم مقدار کو پہنچنے والے مال پر زکوٰۃ واجب ہے۔ تنبیہ: یہ فتویٰ صرف فراہم کردہ دلائل پر مبنی ہے۔ مخلوط اموال یا مختلف علمی آراء پر مشتمل پیچیدہ مسائل کے لیے کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Surah At-Tawbah 9:34-35
Hadith Sahih Muslim 987a; Sahih al-Bukhari 1404; Sahih al-Bukhari 1454; Sahih al-Bukhari 1405; Sahih al-Bukhari 1447
Fiqh Ibn Baz; al-Uthaymin; Permanent Committee