← Back to Fatwas
Gold, Silver & Jewelry Jul 13, 2026

سونے کی زکوٰۃ: وزن کے حساب سے یا بازار قیمت کے حساب سے؟

Question

کیا میں اپنے سونے کی بازار قیمت کا 2.5% حساب کروں، یا اس کے وزن کا 2.5% سونا دوں؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: آپ سونے کی زکوٰۃ یا تو اس کے وزن کا 2.5% (یعنی خود سونا) دے کر ادا کر سکتے ہیں، یا اس کی بازار قیمت نقد کی صورت میں دے سکتے ہیں۔ دونوں طریقے جائز ہیں، البتہ دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ وجوب قیمت پر ہے، اور قیمت ادا کرنا جائز ہے۔ تفصیل: بنیادی نصوص (مثلاً صحیح مسلم 987a، صحیح بخاری 1454) ثابت کرتی ہیں کہ سونے اور چاندی پر زکوٰۃ اُس وقت فرض ہوتی ہے جب وہ نصاب (کم از کم حد) کو پہنچ جائیں، اور اس کی شرح 2.5% ہے۔ سونے کا نصاب بیس دینار (تقریباً 85 گرام) ہے – دیکھیے صحیح بخاری 1404 جس میں سونے اور چاندی کے نصاب کا اصول مذکور ہے۔ اصل وجوب وزن پر ہے، لیکن ادائیگی کا طریقہ عین (خود سونے) کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے اور قیمت کے ذریعے بھی۔ صحیح بخاری 1448 (P5) میں معاذ رضی اللہ عنہ نے جَو کے بدلے کپڑا (قیمت) قبول کیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ جب مستحقین کے لیے فائدہ مند ہو تو قیمت کے ذریعے ادائیگی جائز ہے۔ اسی طرح صحیح بخاری 1422 (P10) میں سونے کے سکے بطور زکوٰۃ دیے گئے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ سونا اور چاندی وزن کے حساب سے وصول کیے جاتے۔ جمہور علماء (بشمول ابن باز، عثیمین، مستقل کمیٹی) کا موقف یہ ہے کہ بازار قیمت نقد ادا کرنا جائز ہے، خاص طور پر جب یہ زیادہ آسان یا غریبوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔ دلائل کی رو سے راجح موقف یہ ہے کہ دونوں طریقے درست ہیں: آپ سونے کے وزن کا 2.5% (اگر آپ کے پاس سونا ہو) دے سکتے ہیں یا اس کے برابر نقد قیمت۔ البتہ اگر آپ کے پاس سونے کے سکے یا زیورات ہوں تو وزن کے حساب سے سونا دینا اصل سنت ہے، لیکن قیمت دینا ایک ثابت شدہ متبادل ہے۔ اگر آپ قیمت کے ذریعے ادا کریں تو یقینی بنائیں کہ یہ ادائیگی کے وقت کی موجودہ بازار قیمت پر مبنی ہو۔ دلائل: 1. صحیح مسلم 987a – سونے اور چاندی پر زکوٰۃ کا وجوب؛ ادا نہ کرنے پر سزا۔ 2. صحیح بخاری 1454 – زکوٰۃ کی شرح اور سونے چاندی کا نصاب۔ 3. صحیح بخاری 1404 – سونے کا نصاب (پانچ اوقیہ = دو سو درہم؛ سونے کا نصاب بیس دینار)۔ 4. صحیح بخاری 1448 – معاذ رضی اللہ عنہ نے غلے کی زکوٰۃ میں کپڑا (قیمت) قبول کیا؛ متبادل کے جواز کی دلیل۔ 5. صحیح بخاری 1422 – سونے کے سکے بطور زکوٰۃ دیے گئے؛ عین یا قیمت کے ذریعے ادائیگی۔ تنبیہ: یہ فتویٰ فراہم کردہ دلائل پر مبنی ہے۔ پیچیدہ مسائل (مثلاً مخلوط اثاثے، مختلف کرنسیاں) میں کسی صاحبِ علم عالم سے رجوع کریں۔

References

Hadith Sahih Muslim 987a; Sahih al-Bukhari 1454; Sahih al-Bukhari 1404; Sahih al-Bukhari 1448; Sahih al-Bukhari 1422
Fiqh Ibn Baz; al-Uthaymin; Permanent Committee for Scholarly Research and Ifta