← Back to Fatwas
Livestock & Agriculture Jul 13, 2026

کام کرنے والے اور ہل چلانے والے جانوروں کی زکوٰۃ

Question

کیا ہل چلانے کے لیے استعمال ہونے والے بیل اور نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والے جانور مویشیوں کی زکوٰۃ کے دائرے میں آتے ہیں؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: نہیں، ہل چلانے، نقل و حمل یا دیگر کاموں میں استعمال ہونے والے بیل اور دوسرے جانور مویشیوں کی زکوٰۃ کے تابع نہیں ہیں، کیونکہ زکوٰۃ کی فرضیت خاص طور پر اُن چرنے والے (سائمہ) جانوروں پر ہے جو تجارت یا پیداوار کے لیے رکھے جائیں، نہ کہ کام کرنے والے جانوروں پر۔ پیش کردہ دلائل (صحیح بخاری 1454، 1455، 1468، 1448، 1502، 1453، 1459، 1405، 1447، 1451، 1484؛ صحیح مسلم 979a) سب اونٹ، کھجور، اناج اور چاندی کی زکوٰۃ سے متعلق ہیں—جن میں نصاب کی حدود (مثلاً پانچ اونٹ، پانچ وسق، پانچ اوقیہ) اور اونٹوں کی اقسام (بنت مخاض وغیرہ) بیان کی گئی ہیں۔ اِن میں سے کسی میں بھی کام کرنے والے جانوروں یا ہل کے بیلوں کا ذکر نہیں۔ کلاسیکی اصول، جو نبی ﷺ اور صحابہ کے عمومی عمل سے ماخوذ ہے، یہ ہے کہ مویشیوں کی زکوٰۃ صرف اُن جانوروں پر واجب ہوتی ہے جو سال کا اکثر حصہ چراگاہ میں چرتے (سائمہ) ہوں اور دودھ، افزائشِ نسل یا تجارت کے لیے رکھے جائیں۔ وہ جانور جو بنیادی طور پر کام (ہل، نقل و حمل وغیرہ) کے لیے استعمال ہوں، اُنہیں آلاتِ کار شمار کیا جاتا ہے، مالِ زکوٰۃ نہیں۔ یہ جمہور علماء (بشمول ابن باز، ابن عثیمین اور مستقل کمیٹی) کا مذہب ہے۔ ایک قابلِ قبول متبادل رائے (جو دلیل کی کمزوری کے باعث کم وزن رکھتی ہے) یہ ہے کہ اگر جانور افزائشِ نسل یا فروخت کے لیے بھی رکھے جائیں تو وہ زکوٰۃ کے تابع ہو سکتے ہیں، لیکن خالص کام کرنے والے جانوروں میں اصل یہی ہے کہ اُن پر زکوٰۃ نہیں۔ دلائل: 1. مذکورہ احادیث نے اونٹوں کا نصاب (پانچ) مقرر کیا مگر کام کرنے والے جانوروں کو شامل نہیں کیا؛ نبوی تشریع چرنے والے ریوڑوں پر مرکوز تھی۔ 2. زکوٰۃ کی وصولی سے متعلق روایات (بخاری 1454، 1455، 1448، 1453) اونٹوں اور بکریوں کی اقسام بیان کرتی ہیں، اِن میں کام کرنے والے جانوروں کا کوئی ذکر نہیں۔ 3. قرآن (جو یہاں نقل نہیں کیا گیا) اور سنت کا عمومی اصول یہ ہے کہ زکوٰۃ اُس مال پر ہے جو بڑھتا ہے؛ کام کرنے والے جانور سرمایہ جاتی اثاثے ہیں، بڑھنے والا مال نہیں۔ تنبیہ: یہ حکم پیش کردہ دلائل پر مبنی ہے۔ پیچیدہ یا مخلوط صورتوں میں (مثلاً وہ جانور جو کام اور تجارت دونوں کے لیے استعمال ہوں) کسی صاحبِ علم عالم سے رجوع کریں۔

References

Hadith Sahih al-Bukhari 1459; Sahih al-Bukhari 1405; Sahih al-Bukhari 1447; Sahih Muslim 979a
Fiqh Majority view: Ibn Baz, al-Uthaymin, Permanent Committee