← Back to Fatwas
Payment & Distribution
Jul 13, 2026
زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد مال کا ضائع یا چوری ہو جانا
Question
مجھ پر زکوٰۃ واجب ہو گئی، پھر ادائیگی سے پہلے مال ضائع یا چوری ہو گیا — کیا اب بھی زکوٰۃ واجب ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: اگر زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد اور ادائیگی سے پہلے مال ضائع یا چوری ہو جائے، تو اہلِ علم کا عمومی قول — اس اصول پر مبنی کہ زکوٰۃ خود مال کے ساتھ متعلق ایک حق ہے — یہ ہے کہ زکوٰۃ اب واجب نہیں رہتی، کیونکہ وجوب کا محل ہی باقی نہیں رہا۔ البتہ پیش کردہ دلائل اس مخصوص صورت کو براہِ راست بیان نہیں کرتے۔
تفصیل: زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب مال نصاب کو پہنچے اور اس پر پورا (قمری) سال گزر جائے (صحیح بخاری 1407، 1454)۔ زکوٰۃ روکنے پر جو سخت وعیدیں آئی ہیں (صحیح بخاری 1403، سورۃ التوبہ 9:34-35) وہ اُن لوگوں کے بارے میں ہیں جو مال رکھتے ہوئے ادائیگی سے انکار کرتے ہیں۔ جب مال مالک کی کسی کوتاہی کے بغیر ضائع ہو جائے، تو اُس مخصوص مال میں فقراء کا حق ساقط ہو جاتا ہے۔ یہ اُس اصول کے مشابہ ہے کہ جو مال مالک کے ادا کرنے سے پہلے ضائع ہو جائے اُس پر زکوٰۃ واجب نہیں، کیونکہ وہ مال اب اُس کے قبضے میں نہیں رہا۔ مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیقات و افتاء (سعودی عرب) اور بہت سے علماء (مثلاً ابن باز اور العثیمین) کی رائے یہ ہے کہ اگر مال زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد بغیر کسی کوتاہی کے تلف یا ضائع ہو جائے، تو زکوٰۃ معاف ہو جاتی ہے۔
دلائل:
1. صحیح بخاری 1403: جو شخص مال رکھتے ہوئے زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اُس کے لیے سخت وعید، جو اِس بات کی دلیل ہے کہ وجوب موجود مال کے ساتھ متعلق ہے۔
2. سورۃ التوبہ 9:34-35: مال جمع کر کے اُس کی زکوٰۃ نہ دینے والوں کی مذمت، اور یہ بھی مال کی موجودگی پر مبنی ہے۔
3. صحیح بخاری 1454: زکوٰۃ کی وصولی کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ یہ موجودہ ملکیت پر مبنی ہے۔
4. صحیح بخاری 1407 (عمومی قواعد سے مستنبط): زکوٰۃ مخصوص اموال میں واجب ہوتی ہے؛ اگر وہ اموال تلف ہو جائیں تو وجوب بھی ساقط ہو جاتا ہے۔
چونکہ اِس مسئلے سے براہِ راست متعلق دلائل محدود ہیں، اِس لیے اپنے مخصوص حالات کے بارے میں کسی صاحبِ علم عالم سے رجوع کریں۔
انتباہ: یہ فتویٰ صرف پیش کردہ دلائل پر مبنی ہے۔ پیچیدہ مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Surah At-Tawbah 9:34-35
Hadith
Sahih al-Bukhari 1403; Sahih al-Bukhari 1405; Sahih al-Bukhari 1395
Fiqh
Ibn Baz; al-Uthaymin; Permanent Committee