Question
کیا زکوٰۃ کی رقم مسجد کی تعمیر یا کسی مدرسے اور اس کے طلبہ کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: فراہم کردہ دلائل کی بنیاد پر، زکوٰۃ کی رقم مسجد کی تعمیر یا کسی مدرسے اور اس کے طلبہ کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی، کیونکہ یہ قرآن و سنت میں متعیّن زکوٰۃ کے مستحقین کی خاص اصناف میں شامل نہیں ہیں۔ آپ نے جو دلائل پیش کیے ہیں ان میں مساجد یا مدارس کو جائز مصارف کے طور پر ذکر نہیں کیا گیا؛ بلکہ ان میں مال پر زکوٰۃ کی فرضیت (صحیح بخاری 1404، 1403، 1451، 1454، 1498، 1499، 1405، 1468)، اسے روکنے پر وعید (صحیح بخاری 1403، 1468)، اور بعض مخصوص مصارف جیسے فقراء، مقروض اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا ذکر ہے (صحیح بخاری 1468 میں مجاہدین کو زکوٰۃ دینے کا ذکر ہے)۔ عبارت P3 (صحیح بخاری 1468) بالواسطہ اشارہ کرتی ہے کہ زکوٰۃ فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کو دی جا سکتی ہے، لیکن مسجد کی عمارت یا مدرسے کا ادارہ کوئی فرد نہیں ہے اور یہ اللہ کی مقرر کردہ آٹھ اصناف (سورۃ التوبہ 9:60، جو آپ کی عبارتوں میں موجود نہیں) میں شامل نہیں ہوتا۔ مدرسے کے وہ طلبہ جو فقیر ہیں وہ بطورِ فرد فقراء یا مساکین کی صنف کے تحت زکوٰۃ لے سکتے ہیں، لیکن خود ادارے کے لیے فنڈنگ کے طور پر نہیں۔ اہلِ حدیث کے جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ زکوٰۃ کو سختی سے آٹھ اصناف میں تقسیم کیا جانا چاہیے، اور مساجد کی تعمیر یا تعلیمی اداروں کی مالی معاونت ان میں سے نہیں ہے۔ لہٰذا فراہم کردہ دلائل کی بنیاد پر ایسے مقاصد کے لیے زکوٰۃ استعمال کرنا جائز نہیں۔
دلائل:
1. صحیح بخاری 1468 (P3) میں ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے زکوٰۃ جمع کرنے کا حکم دیا، اور ابن عباس و حسن (بصری) نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں (مجاہدین) اور حج کے لیے زکوٰۃ دینے کی اجازت دی، لیکن مساجد یا مدارس کی تعمیر کے لیے نہیں۔
2. صحیح بخاری 1403 (P2) اور 1404 (P1) مال پر زکوٰۃ ادا کرنے کی فرضیت اور اسے ادا کیے بغیر جمع کرنے والوں کے لیے سخت وعید کو اجاگر کرتے ہیں، جو اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ زکوٰۃ فقراء کا مخصوص حق ہے، تعمیر کے لیے کوئی عام عطیہ نہیں۔
3. صحیح بخاری 1454 (P9) اور 1451 (P4) مال اور مویشیوں پر زکوٰۃ کے احکام کی تفصیل بیان کرتے ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک مقرر فریضہ ہے جس کے مستحقین کی اصناف طے شدہ ہیں، کوئی اختیاری فنڈ نہیں۔
4. آپ کی فراہم کردہ عبارتوں میں کسی ایسی صحیح حدیث کی عدم موجودگی جو مسجد یا مدرسے کی تعمیر کے لیے زکوٰۃ کی اجازت دیتی ہو، اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا استعمال بنیادی مآخذ سے ثابت نہیں۔
ہم آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ پیچیدہ مسائل میں تفصیلی رہنمائی کے لیے کسی مستند عالم سے رجوع کریں، خاص طور پر عصرِ حاضر کے تناظر میں "فی سبیل اللہ" کی تعبیر کے حوالے سے۔
References
Hadith
Sahih al-Bukhari 1404; Sahih al-Bukhari 1403; Sahih al-Bukhari 1468; Sahih al-Bukhari 1451; Sahih al-Bukhari 1454; Sahih al-Bukhari 1400
Fiqh
Based on the provided evidence, the position of the Permanent Committee for Islamic Research and Ifta (Saudi Arabia) and major Ahle Hadith scholars such as Ibn Baz and al-Uthaymin is that zakat must b