← Back to Fatwas
Livestock & Agriculture
Jul 13, 2026
زکوٰۃ میں چرنے والے (سائمہ) اور چارہ خور (معلوفہ) جانور
Question
زکوٰۃ کے اعتبار سے آزاد چرنے والے اور باندھ کر چارہ کھلائے جانے والے جانوروں میں کیا فرق ہے، اور ہر ایک پر کون سے احکام لاگو ہوتے ہیں؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: آزاد چرنے والے (سائمہ) جانوروں پر مویشیوں کی مقررہ زکوٰۃ کے جدول (نصاب اور شرحیں) لاگو ہوتے ہیں، جیسا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے خط کی صحیح حدیث میں مذکور ہے (صحیح بخاری 1454-55)۔ باندھ کر چارہ کھلائے جانے والے (معلوفہ) جانور ان جدولوں میں شامل نہیں؛ انہیں یا تو مالِ تجارت شمار کیا جائے گا (اگر دوبارہ فروخت کے لیے خریدے گئے ہوں) تو ان کی بازاری قیمت کا 2.5% زکوٰۃ ہے، یا اگر ذاتی استعمال (سواری، محنت، یا کھانے) کے لیے رکھے گئے ہوں تو ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں، الا یہ کہ وہ مالِ تجارت کے نصاب کو پہنچ جائیں۔
دلائل:
1۔ لجنۃ دائمہ اور جمہور علماء (بشمول ابن باز اور العثیمین) فرماتے ہیں کہ مویشیوں کے مقررہ نصاب کے جدول صرف 'سائمہ' جانوروں پر لاگو ہوتے ہیں—وہ جو سال کے اکثر حصے میں کھلی چراگاہ میں چرتے ہیں اور دودھ/نسل کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ (P1)
2۔ صحیح بخاری 1454: ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لکھے ہوئے زکوٰۃ کے خط میں نبی ﷺ کے مویشیوں سے متعلق احکام نقل کیے گئے ہیں، جن میں مقررہ شرحوں کے لیے 'سائمہ' کی شرط بیان کی گئی ہے۔ (P2)
3۔ صحیح بخاری 1455: اسی خط میں بوڑھے اور عیب دار جانور نہ لینے جیسی شرائط شامل ہیں، جو مزید اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ احکام چرنے والے مویشیوں کے لیے ہیں۔ (P3)
لہٰذا، چارہ خور جانوروں کے لیے مالک کو ان کے مقصد کا جائزہ لینا ہوگا: اگر تجارت کے لیے ہوں تو نصاب (85 گرام سونے کے برابر) کو پہنچنے پر بازاری قیمت کا 2.5% زکوٰۃ ادا کرے؛ اگر ذاتی غیر تجارتی استعمال (مثلاً سواری، گوشت) کے لیے ہوں تو خود جانوروں پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ پیچیدہ مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Hadith
Sahih al-Bukhari 1454; Sahih al-Bukhari 1455
Fiqh
Permanent Committee; Ibn Baz; al-Uthaymin; based on Sahih al-Bukhari hadith