Question
کیا میں اپنی زکوٰۃ مقامی طور پر دینے کے بجائے کسی دوسرے شہر یا ملک میں غریب رشتہ داروں یا نیک کاموں کے لیے بھیج سکتا ہوں؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: اصل حکم یہ ہے کہ زکوٰۃ اسی علاقے کے فقراء میں تقسیم کی جائے جہاں مال موجود ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ کو (یمن بھیجتے وقت) حکم دیا (صحیح بخاری 1496، 1458، 1395)۔ تاہم کسی جائز ضرورت کے وقت زکوٰۃ کو دوسرے شہر یا ملک منتقل کرنا جائز ہے—جیسے کسی دوسری جگہ غریب رشتہ داروں کی مدد کرنا، جب مقامی طور پر کوئی مستحق فقیر نہ ہو، یا جب کہیں اور زیادہ ضرورت یا قحط ہو۔ ایسے محتاج رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا جن کا نفقہ آپ پر واجب نہیں (جیسے بھائی، بہن، چچا، بھتیجا) نہ صرف جائز ہے بلکہ اس میں دوہرا اجر ہے (صحیح بخاری 1466، جیسا کہ P9 میں مذکور ہے)۔ مستقل کمیٹی بھی اس اصول کی تصدیق کرتی ہے: اگر شدید ضرورت ہو تو منتقلی جائز ہے۔ یاد رہے کہ زکوٰۃ کا مستحق یا اس کے مقرر کردہ وکیل تک پہنچنا ضروری ہے؛ محض بھیج دینا ذمہ داری سے بری نہیں کرتا (P4)۔
دلائل:
1. نبی ﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن میں حکم دیا: ”اسے ان کے مالداروں سے لو اور ان کے فقراء کو دو“ (صحیح بخاری 1496؛ نیز صحیح بخاری 1458، 1395)۔ یہ مقامی فقراء کو ترجیح دینے کا اصول قائم کرتا ہے۔
2. مستقل کمیٹی (اللجنۃ الدائمہ) فرماتی ہے: اصل یہ ہے کہ علاقے کے فقراء کو دیا جائے، لیکن حقیقی ضرورت کی صورت میں منتقلی جائز ہے، جیسے کسی اور جگہ غریب رشتہ دار ہوں، مقامی طور پر کوئی فقیر نہ ہو، یا زیادہ ضرورت ہو (فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ، P2)۔
3. ایسے محتاج رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا جن کا نفقہ آپ پر واجب نہیں، افضل ہے، کیونکہ اس میں صدقہ اور صلہ رحمی دونوں جمع ہو جاتے ہیں (مستقل کمیٹی اور شیخ العثیمین، P9)۔
تنبیہ: یہ فتویٰ فراہم کردہ دلائل پر مبنی ہے۔ بڑی رقوم یا متعدد فریقوں سے متعلق پیچیدہ معاملات میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Hadith
Sahih al-Bukhari 1496; Sahih al-Bukhari 1458; Sahih al-Bukhari 1395
Fiqh
Permanent Committee for Scholarly Research and Ifta; based on Sahih al-Bukhari 1496, 1458, 1395; Sahih Muslim 983 (indirectly).