Question
میرے پاس بٹ کوائن اور کچھ دوسری کرپٹو کرنسیاں ہیں۔ کیا ان پر زکوٰۃ واجب ہے؟
Ruling (Fatwa)
مختصر جواب: جی ہاں۔ کرپٹو کرنسی ذریعۂ تبادلہ اور قدر محفوظ رکھنے کے وسیلے کے طور پر کام کرتی ہے، اس لیے اس پر کرنسی/مالِ تجارت کا حکم لگتا ہے۔ جب اس کی بازاری قیمت نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر قمری سال (حول) گزر جائے تو کل قیمت کا 2.5% زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے عمومی الفاظ میں 'ان کے اموال میں سے' صدقہ لینے کا حکم دیا ہے (القرآن 9:103)، اور نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زکوٰۃ نامے میں چاندی کی کرنسی پر چالیسواں حصہ (2.5%) مقرر فرمایا (صحیح بخاری 1454)۔ کرپٹو دراصل قیمتی اور قابلِ تبادلہ مال ہی کی ایک جدید شکل ہے۔ بعض علماء نے خود کرپٹو کے لین دین کے جواز پر احتیاط کا اظہار کیا ہے؛ مگر وہ ایک الگ بحث ہے — جو مال آدمی کی ملکیت میں فی الواقع موجود ہے اس سے زکوٰۃ کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی۔
دلائل: القرآن 9:103؛ صحیح بخاری 1454؛ سنن ابن ماجہ 1792 (شیخ البانی نے صحیح قرار دیا) حول کی شرط کے بارے میں؛ اور شیخ ابن باز اور شیخ ابن عثیمین کا مقرر کردہ اصول کہ جدید کرنسیاں سونے چاندی کے حکم میں ہیں۔
اطلاق: اپنی زکوٰۃ کی تاریخ پر تمام والٹس/ایکسچینجز کے سکوں کی مجموعی قیمت اپنی مقامی کرنسی میں لگائیں؛ اگر یہ (تنہا یا آپ کے دیگر نقدی اموال کے ساتھ مل کر) نصاب — یعنی 87.48 گرام سونے یا 612.36 گرام چاندی کی قیمت — کو پہنچ جائے تو 2.5% ادا کریں۔
پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔
References
Quran
Quran 9:103
Hadith
Bukhari 1454; Ibn Majah 1792
Fiqh
Ibn Baz & al-Uthaymin on currency zakat