← Back to Fatwas
Debts & Loans Jul 13, 2026

سیکیورٹی ڈپازٹ (زرِ ضمانت) اور پیشگی کرایے کی زکوٰۃ

Question

گھر کرائے پر لیتے وقت میں نے مالکِ مکان کو سیکیورٹی ڈپازٹ (زرِ ضمانت) اور چند ماہ کا پیشگی کرایہ دیا۔ اس رقم کی زکوٰۃ کس پر واجب ہے؟

Ruling (Fatwa)

مختصر جواب: (1) واپس ملنے والا زرِ ضمانت: یہ آپ کا مال ہے — مالکِ مکان کے ذمے آپ کا قرض (مضبوط قرض)۔ اگر مالک خوشحال ہو اور واپسی یقینی ہو تو ہر سال اسے اپنی زکوٰۃ کے حساب میں شامل کریں۔ (2) پیشگی کرایہ: ادائیگی کے ساتھ ہی وہ مالکِ مکان کی ملکیت بن جاتا ہے — آپ کے حساب سے خارج؛ مالک اسے اپنی نقدی کے ساتھ ملا کر زکوٰۃ ادا کرے گا۔ تفصیل: فرق کی بنیاد ملکیت ہے: زرِ ضمانت معاہدہ ختم ہونے پر آپ کو واپس ملتا ہے، اس لیے مالک کے قبضے میں ہونے کے باوجود وہ آپ ہی کا قرض (وصول طلب رقم) رہتا ہے؛ جبکہ پیشگی کرایہ اجارے کے عوض کی حتمی ادائیگی ہے اور اب وہ آپ کا نہیں رہا۔ یہی اصول کاروباری سیکیورٹی منی، ٹینڈر ڈپازٹ اور بجلی وغیرہ کے کنکشن ڈپازٹ پر بھی جاری ہے: قابلِ واپسی ہو تو آپ کا اثاثہ، ناقابلِ واپسی ہو تو خرچ۔ دلائل: القرآن 9:103 (زکوٰۃ مملوکہ مال میں ہے)؛ قرضوں کی زکوٰۃ پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا اثر (مؤطا، کتاب الزکوٰۃ) اور صحیح بخاری 1454 میں نقدی کی زکوٰۃ کا اصول؛ نیز لجنہ دائمہ اور معاصر علماء کا فتویٰ کہ قابلِ واپسی ضمانت جمع کرانے والے ہی کی ملکیت ہے اور اسی پر اس کی زکوٰۃ واجب ہے۔ پیچیدہ انفرادی مسائل میں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

References

Quran Quran 9:103
Hadith Bukhari 1454; athar of Uthman
Fiqh Permanent Committee on refundable deposits